مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 387
مکتوب نمبر ۵۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔عنایت نامہ پہنچا۔حالات تردّدو اضطراب معلوم کر کے جس قدر دل کو درد پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے مگر ساتھ ہی وہ امیدیں جو خد اتعالیٰ کے فضل پر ہیں وہ نومیدی کو نزدیک نہیں آنے دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ وہ دن دکھلائے کہ آپ کی قلم سے نکلی ہو ئی یہ عبارت پڑھوں کہ حسب المراد خد اتعالیٰ نے فضل کر دیا۔اس کے آگے کچھ بھی دور نہیں۔ہر ایک رات اس امید کے ساتھ پلنگ پر لیٹتا ہوں کہ کوئی خوشخبری حضرت عزّت جلّشانہٗ سے آپ کی نسبت پائوں۔اگر ایسی خوشخبری مجھ کو ملی تو مجھ کو وہ خوشی ہو گی جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ آپ کا معہ تمام عزیزوں کے ہر اک ارضی سماوی بلاسے بچاوے اوراپنے سایۂ رحمت سے محفوظ رکھے۔ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں۔والسلام ۱۱؍ نومبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ