مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 376
مکتوب نمبر ۴۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔میں اس قدر آپ کے لئے دعا میں لگا ہوا ہوں جس کی تفصیل آپ کے پاس کرنا ضروری نہیں خدا وند علیم بہتر جانتا ہے۔میں آپ کے تار کامنتظر نہیں۔زیادہ مجھے اس بات کا انتظار ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارت کی تار پہنچے۔یہ حالتیں عسرویسر کی دنیا میں ہوتی رہتی ہیں مگر بڑی بھاری دولت یہ ہے کہ ایسی تقریبوں سے انسان کو خدا تعالیٰ پر زیادہ یقین پیدا ہو جائے جبکہ میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں۔جس کو میں جانتا ہوں کہ وہ حضرت عزت جلّشانہٗ میں قدر رکھتی ہے تو پھر آپ کو زیادہ تر قلق اورکرب میں نہیں رہنا چاہئے۔دنیا کے محجوب لوگ جن کو خدا تعالیٰ سے بلاواسطہ اور بواسطہ کچھ تعلق نہیں ہوتا ہے اگر غموں کے صدمہ سے مر بھی جائیں تو کچھ تعجب نہیں۔مگر جس کو یہ تقریب پیش آئے جو آپ کو میسر آئی ہے اس کو غم کرنا اس تقریب کی ناقدر شناسی ہے۔دنیا تماشا گاہ ہے کبھی انسان عروج میں گویا افلاک تک پہنچتا ہے اور کبھی خاک میں۔مگر جولوگ خد اکی طرف اور خدا کے بندوں کی طرف جھکتے ہیں وہ ضائع نہیں کئے جاتے ۔۱؎ میں ہر ایک رات پیام بشارت کا منتظر ہوں اور میں خدا وند کریم کو جس قدر فی الواقع رحیم کریم دیکھتا ہوں میرے پاس الفاظ نہیں کہ اُن کو بیان کرسکوں٭ والسلام یکم جولائی ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان