مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 366
مکتوب نمبر ۳۲ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔کل کی تاریخ مبلغ ایک سو روپیہ مرسلہ آنمکرم ڈاک کی معرفت مجھ کو ملا۔جزاکم اللّٰہ خیرًا۔اللہ تعالیٰ آپ کو ہر ایک متردّد سے نجات بخشے۔بہو کی بیماری بھی بہت تردّد کی جگہ ہے۔اللہ جلّشانہٗ ان کو شفا عطا فرماوے آمین ثم آمین۔یہ عاجز قریباً دس روز سے بیمار ہے، نزلہ اور کھانسی اور زکام کا اس قدر غلبہ ہے کہ طبیعت پریشان ہے اور رات کو نیند نہیں آتی گو میں اب بھی آپ کے تردّدات اور بیماری بہو کے لئے دعا کرتا ہوں مگر جس وقت اللہ جلّشانہٗ نے مجھے شفا بخشی تب نہایت توجہ سے دعا کروں گا۔اس وقت صحت کی حالت ایسی خراب ہے کہ بعض وقت زندگی کا خاتمہ معلوم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ پر ہر طرح سے بھروسہ ہے۔وہ قادر اور کریم اور رحیم ہے۔میں نے جو دعا اور طاعون کے بارے میں ایک رسالہ شروع کیا تھا اسی بیماری کی وجہ سے اس میں توقف ہوگیا۔کیونکہ نہایت ضعف اور سیلان دماغ کی وجہ سے میں تحریر سے عاجز ہوں۔امید کہ حالات خیریت آیات سے مجھے مطلع فرماتے رہیں۔میں اس وقت زیادہ طاقت نہیں رکھتا۔گلا بھی پکا ہوا اور گلٹیاں سی معلوم ہوتیں ہیں۔والسلام ۱۰؍مارچ ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد