مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 340

کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اس نے پوشیدہ طور پر حق کی طرف رجوع کیا لہذا اس شرط کے موافق موت سے بچ گیا۔گو ہاویہ کامزہ دیکھ لیا۔اس لئے میں نے عیسائیوں پر حجت ثابت کرنے کے لئے پانچ ہزار اشتہار چھپوایا ہے اور اسی بارے میں ایک رسالہ انوارالاسلام چھاپا۔اس پر آپ ہی کا روپیہ آمدہ خرچ ہوا۔یہ اشتہار اور رسائل عنقریب آپ کی خدمت میں مرسل ہوں گے۔ان کاخلاصہ مضمون یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پیشگوئی کو پورا کیا اور عیسائیوں کے بحث کرنے والے گروہ کو طرح طرح کے عذاب اور دکھوں میں مبتلا کیا اور عبداللہ آتھم نے پوشیدہ طور پر حقانیت اسلام کو قبول کر لیا اور اگر عبداللہ آتھم انکار کریں کہ میں نے قبول نہیں کیا تو وہ ہم سے بلاتوقف ہزار روپیہ لے اور قسم کھا جائے اور اگر وہ قسم کھا کر ایک سال تک بچ گیا تو روپیہ اس کاہوا اور نیز ہم اقرار کردیں گے کہ ہمارا الہام غلط ہے۔اس غرض سے یہ پانچ ہزار اشتہار چھپوایا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر اچھی طرح کھول دیا ہے کہ اس کی رہائی محض اسلام کی طرف جھکنے سے ہوئی ہے لیکن اگر وہ ہزار روپیہ طلب کرے تو پہلے سے اس کافکر ہو رہنا ضروری ہے۔سو اگرچہ میں آپ کی متواتر خدمات کی وجہ سے کوئی تکلیف آپ کو دینا نہیں چاہتا مگر پھر خیال آتا ہے کہ ایسے کاموں میں اگر دوستوں کو نہ کہا جائے تو اور کس کو کہا جائے۔میں خواہش رکھتا ہوں کہ چند دوست مل کر یہ ہزار روپیہ مجھ کو بطور قرضہ کے دے دیں۔مگر ابھی میرے پاس بھیجا نہ جائے۔اگر اس عیسائی نے مقابلہ کے لئے دم مارا اور روپیہ طلب کیا تو اس وقت بذریعہ تار بھیج دیں۔یہ روپیہ محض میرے ذمہ ہو گا۔اور خدا کے متواتر الہامات سے آفتاب کی طرح میرے پر روشن ہے کہ ہم فتح پائیں گے۔لیکن ایک معاملہ کی بات کو طے کرنے کے لئے لکھتا ہوں کہ اگر محال کے طور پر جو بالکل محال ہے کافر بے دین فتح یاب ہوا تو یہ قرضہ بلا تامّل ادا کر دوں گا۔ورنہ وہ ہزار روپیہ جو بطور امانت اس کے پاس ہو گا، واپس کر دیا جائے گا۔مجھ کو اس کاکمال تردّد ہے خدا تعالیٰ بہم پہنچا وے اور امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہر طرح پر بہم پہنچا وے گا۔وہ قادر مطلق ہے مگر اس وقت بھیجا جائے کہ جب میں طلب کروں اور لکھوں کہ اب بھیجا جائے ابھی اشتہار چھپ رہے ہیں۔بلکہ جس وقت اشتہار رجسٹری کرا کر اس کے پاس پہنچایاجائے گا اور وہ روپیہ مانگے گا اس وقت درکار ہے۔اوّل تو مجھے امید نہیں کہ وہ طلب کرے