مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 339
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکتوب نمبر ۱ مکرمی اخویم حاجی سیٹھ اللہ رکھاعبدالرحمن صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کل کی تاریخ میں مبلغ سو روپیہ مجھ کو پہنچے۔جزاکم اللہ خیراً، کوئی خط ساتھ نہیں آیا۔اس لئے بدستخط خود رسید سے اطلاع دیتا ہوں۔امید کہ ہمیشہ خیر خیریت سے مطلع اور مسرور الوقت فرماتے رہیں۔باقی ہر طرح سے خیریت ہے۔مخالفوں کا اس طرف بہت غلبہ ہے۔ایام ابتلا معلوم ہوتے ہیں خدا تعالیٰ ہر ایک مومن کو ثابت قدم رکھے۔والسلام ۲۲؍ اگست ۱۸۹۴ء خاکسار غلام احمد ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۲ مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب۔السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ۔آنمکرم کی طرف (سے) ایک دفعہ سو روپیہ اور ایک دفعہ تار کے ذریعہ ڈیڑھ سو روپیہ مجھ کو کل پہنچا۔اللہ جلّشانہٗ بعوض ان دینی خدمات کے دنیا و آخرت میں آپ کو اجر بخشے۔اور آپ کے ساتھ مجھ کویہ روپیہ بہت ہے اس قدر کہ وقت پر کام دیا۔ایسا اتفاق ہوا کہ عبداللہ آتھم عیسائی اور اس کا باقی گروہ جن کی نسبت پیشگوئی تھی کہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں ا ن کو ہر ایک طرح کا عذاب اور ذلّت پہنچے گی ان کی نسبت پیشگوئی پوری ہوئی مگر بعض شریر قبول نہیں کرتے۔عبداللہ آتھم کی نسبت یہ الہام تھا کہ اگر وہ پندرہ مہینے تک حق کی طرف رجوع نہ کرے تو مر جائے گا۔چنانچہ وہ پندرہ ماہ تک مارے خوف جان بلب رہا اور شہر بہ شہر موت سے ڈرتا پھرا اور اس کے دماغ میں