مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 314
مکتوب نمبر۹۴ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یہ عجیب اتفاق ہوا کہ آپ نے ہزار روپیہ کانوٹ بند خط کے اندر بھیجا اور میاں صفدر نے شادی خاں کی والدہ کے حوالہ کیا جس کو دادی کہتے ہیں۔وہ بیچاری نہایت سادہ لوح ہے۔وہ میری چارپائی پر وہ لفافہ چھوڑ گئی۔میں باہر سیر کرنے کو گیا تھا اور وہ بھول گئی۔اب اس وقت اس نے یاد دلایا کہ نواب صاحب کا ایک خط آیا تھا میں نے پلنگ پر رکھا تھا پہلے تو وہ خط تلاش کرنے سے نہ ملا۔میں نے دل میں خیال کیا کہ کل زبانی دریافت کر لیں گے پھر اتفاقاً بستر کو اُٹھانے سے وہ خط مل گیا اور کھولا تو اس میں ہزار روپیہ کا نوٹ تھا۔یہ بے احتیاطی اتفاقی ہوگئی گویا ہزار روپیہ کا نقصان ہو گیا تھا۔مگر الحمدللہ مل گیا۔وہ عورت بیچاری نہایت سادہ اور نیم دیوانہ ہے۔وہ بے احتیاطی سے پھینک گئی۔خدا تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔آپ نے اپنی نذر کو پورا کیا۔آمین۔والسلام مرزا غلام احمد حضور چشمہ معرفت میں تحریر فرماتے ہیں کہ نواب صاحبؓ نے بعد کامیابی بلا توقف تین ہزار روپیہ لنگر خانہ کے لئے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا جو پورا کر دیا۔(صفحہ ۳۲۳،۳۲۴) چنانچہ مکتوب ہذا میں اس نذر کے پورا کرنے کا ذکر ہے اور نواب صاحب کے ۱۶؍ فروری ۱۹۰۸ء کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ چند روز قبل بذریعہ تار کامیابی کی اطلاع آئی تھی اس لئے مکتوب حضور اس تاریخ کے قریب کا ہے۔تفصیل کیلئے اصحاب احمد جلد دوم حاشیہ صفحہ۵۹۶ دیکھئے۔