مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 310
مکتوب نمبر۹۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم سیدی و مولائی طبیب روحانی سلّمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم مقبرہ بہشتی میں قبروں کی بُری حالت ہے ایک تو قبروں میں نالیوں کی وجہ سے سیلاب ویسے ہی رہتا ہے اور یہ نالیاں درختوں کے لئے ضروری ہیں پھر اس پر یہ زیادہ ہے۔پانی جو آیا کرتا ہے اس کی سطح سے یہ قبریں کوئی دو فٹ نیچی ہیں۔اب معمولی آب پاشی ہے اور ان بارشوں سے اکثر قبریں دَب جاتی ہیں۔پہلے صاحب نور اور غوثاں کی قبریں دَب گئی تھیں ان کو میں (نے) درست کرا دیا تھا۔اب پھر یہ قبریں دَب گئی ہیں اور یہ پانی صاف نظر آتا ہے کہ نالیوں کے ذریعہ گیا ہے۔پس اس کے متعلق کوئی ایسی تجویز تو میر صاحب فرمائیں گے کہ جس سے روز کے قبروں (کے) دبنے کا اندیشہ جاتا رہے مگر میرا مطلب اس وقت اس عریضہ سے یہ ہے کہ ابھی تو معمولی بارش سے یہ قبریں دبی ہیں پھر معلوم نہیںکوئی رو آ گیا تو کیاحالت ہوگی۔اس لئے نہایت ادب سے عرض ہے کہ اگر حضور حکم دیں تو میں اپنے گھر کے لوگوں کی قبر کو پختہ کر دوں اور ایک (دو)دوسری قبریں بھی یا (جیسا) حضور حکم دیں ویسا کیا جائے۔(راقم محمد علی خاں) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میرے نزدیک اندیشہ کی وجہ سے کہ تا سیلاب کے صدمہ کی وجہ سے نقصان (نہ ہو) پختہ کرنے میں کچھ نقصان نہیں معلوم ہوتا کیونکہ انما الاعمال بالنیات۱؎۔باقی رہے مخالف لوگوں کے اعتراضات تو وہ تو کسی طرح کم نہیں ہو سکتے۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ (ب) نوٹ از مرتب: (۱) دونوں مکتوبات میں خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔(۲) دونوں مکتوبات کی تاریخ کی تعیین ذیل کے امور سے ہوتی ہے۔(الف) تاریخ وفات غوثاںؓ ۲۳؍ستمبر۱۹۰۶ء ، صاحب نور صاحب ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۶ء اور