مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 307

مکتوب نمبر۸۹ دستی ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اشتہار کے بارے میں جو مدرسہ کے متعلق لکھا ہے۔چند دفعہ میں نے ارادہ کیا کہ لکھوں اور ایک دفعہ یہ مانع اس میں آیا کہ دو حال سے خالی نہیں کہ یا تو یہ لکھا جائے کہ جس قدر مدد کا لنگر خانہ کی نسبت ارادہ کیا جاتا ہے۔اسی رقم میں سے مدرسہ کی نسبت ثلث یا نصف ہونا چاہئے۔تواس میں یہ قباحت ہے کہ ممکن ہے اس انتظام سے دونوں میں خرابی پید اہو۔یعنی نہ تو مدرسہ کا کام پورا ہو اور نہ لنگر خانہ کا۔جیسا کہ دو روٹیاں دو آدمیوں کو دی جائیںتو دونوں بھوکے رہیںگے اور اگر چندہ دینے والے صاحبوں پر یہ زور ڈالا جائے کہ وہ علاوہ اس چندہ کے مدرسہ کے لئے ایک چندہ دیں تو ممکن ہے کہ ان کو ابتلا پیش آوے اور وہ اس تکلیف کو فوق الطاقت تکلیف سمجھیں۔اس لئے میںنے خیال کیا کہ بہتر ہے کہ مارچ اور اپریل دو مہینے امتحان کیا جائے کہ اس تحریک کے بعد جو لنگر خانہ کے لئے کی گئی ہے۔کیا کچھ ان دو مہینوں میں آتا ہے۔پس اگر اس قدر روپیہ آگیا جو لنگرخانہ کے تخمینی خرچ سے بچت نکل آئے تو وہ روپیہ مدرسہ کے لئے ہو گا۔میرے نزدیک ان دو ماہ کے امتحان سے ہمیں تجربہ ہو جائے گا کہ جو کچھ انتظام کیا گیاہے۔کس قدر اس سے کامیابی کی امید ہے۔اگر مثلاً ہزار روپیہ ماہوار چندہ کا بندوبست ہو گیا تو آٹھ سو روپیہ لنگر خانہ کے لئے نکال کر دو سو روپیہ ماہوار مدرسہ کے لئے نکل آئے گا۔یہ تجویز خوب معلوم ہوتی ہے کہ ہر ایک روپیہ جو ایک رجسٹر میں درج ہوتا رہے اور پھر دو ماہ بعد سب حقیقت معلوم ہوجائے۔غلام احمد عفی عنہ