مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 306

مکتوب نمبر۸۸ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تمام خط میںنے پڑھا۔اصل حال یہ ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ اس بنا پر تھا کہ نور محمد کی بیوی نے میرے پاس بیان کیا کہ نواب صاحب میرے خاوند کو یہ تنخواہ چار روپیہ ماہوار کوٹلہ میں بھیجتے ہیں اور اس جگہ چھ روپیہ تنخواہ تھی اور روٹی بھی ساتھ تھی۔اب ہماری تباہی کے دن ہیں اس لئے ہم کیا کریں۔یہ کہہ کر وہ روپڑی۔میں یہ توجانتا تھا کہ اس تنزّل تبدیلی کے کوئی اسباب ہوںگے اور کوئی ان کا قصور ہو گا۔مگر مجھے خیال آیا کہ ایک طرف تو میں نواب صاحب کے لئے پنج وقت نماز میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی پریشانی دور کرے اور دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن کی شکایت ہے کہ ہم اب اس حکم سے تباہ ہو جائیںگے تو ایسی صورت میں میری دعا کیا اثر کرے گی۔گو یہ سچ ہے کہ خدمت گار کم حوصلہ اور احسان فراموش ہوتے ہیں۔مگر بڑے لوگوں کے بڑے حوصلے ہوتے ہیں۔بعض وقت خدا تعالیٰ اس بات کی پرواہ نہیںرکھتا کہ کسی غریب نادار خدمت گار نے کوئی قصور کیا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ صاحب دولت نے کیوں ایسی حرکت کی کہ اس کی شکر گزاری کے برخلاف ہے۔اس لئے میں نے آپ کو ان کی دلی رنجش کے بُرے اثر سے بچانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب کو لکھا تھا۔ورنہ میں جانتا ہوں کہ اکثر خدمت گار اپنے قصور پر پردہ ڈالتے ہیں اوریوں ہی واویلا کرتے رہتے ہیں۔اس وجہ سے میں نے مہمان کے طور پر اس کی بیوی کو اپنے گھر میںرکھ لیا۔تاکوئی امر ایسانہ ہو کہ جو میری دعائوں کی قبولیت میں حرج ڈالے اور حدیث شریف میں آیا ہے۔اِرْحَمُوْا فِیْ الْاَرْضِ تُرْحَمُوْا فِیْ السَّمَآئِ زمین میں رحم کرو تا آسمان پر تم پر رحم ہو۔مشکل یہ ہے کہ امراء کے قواعد انتظام قائم رکھنے کے لئے اور ہیں اور وہاں آسمان پر کچھ اور چاہتے ہیں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ