مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 285
مکتوب نمبر۷۵ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔میں دعا میں مصروف ہوں خدا تعالیٰ جلد تر آپ کے لئے کوئی راہ کھولے۔دنیا کی مشکلات بھی خدا تعالیٰ کے امتحان ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کو اس امتحان سے نجات دے۔آمین۔میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور نیز تجربہ بھی کہ آخر دعائیں قبول ہو کر کوئی مخلصی کی راہ پیدا کی جاتی ہے اور کثرت دعاؤں کے ساتھ آسمان پر ایک خلق جدید اسباب کا ہوتا ہے یعنی بحکمِ ربی نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ سچ ہے کہ ۱؎ جو انقلاب تدبیر سے نہیں ہو سکتا وہ دعا سے ہوتا ہے۔بایں ہمہ دعا کے ثمرات دیکھنے کیلئے صبر درکار ہے جیسا کہ حضرت یعقوبؑ کی دعاؤں کا اخیر نتیجہ یہ ہوا کہ باراں برس کے (بعد٭) یوسف زندہ نکل آیا۔ایمان میں ایک عجیب برکت ہے جس سے مردہ کام زندہ ہو جاتے ہیں۔سو آپ نہایت مردانہ استقامت سے کشائش وقت کا انتظار کریں۔اللہ تعالیٰ کریم و رحیم ہے اور میری طرف سے اور والدہ محمود کی طرف سے گھر میں السلام علیکم ضرور کہہ دیں۔والسلام ۱۲؍جنوری ۱۹۰۵ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ