مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 231

طرح مدینہ میں بنایا گیا تھا۔بقول شیخ سعدیؒ۔کہ بداں رابہ نیکاں بہ بخشد کریم یہ بھی ایک وسیلہ مغفرت ہوتا ہے۔جس کو شریعت میں معتبر سمجھا گیاہے۔اس قبرستان کی فکر میں ہوں کہ کہاں بنایا جاوے۔امید کہ خدا تعالیٰ کوئی جگہ میسر کر دے گا اوراس کے اردگرد ایک دیوار چاہئے۔والسلام ۶؍اگست ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان مکتوب نمبر۳۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبی اخویم نواب صاحب سردار محمد علی خان صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کی نئی شادی کے مبارک ہونے کے لئے میںنے بہت دُعا کی ہے۔اللہ تعالیٰ قبول فرماوے۔عارضہ جذام جو اُن کے والد صاحب کو تھا یہ عارضہ درحقیقت سخت ہوتا ہے اور سخت اندیشہ کی جگہ۔اس لئے برعایت ظاہر یہ بھی مناسب ہے کہ خون کی اصلاح کے لئے ہمیشہ توجہ رہے۔اِنْشَائَ اللّٰہ تَعَالٰی میں ایک دوا تجویز کروں گا اس دوا کوہمیشہ استعمال کریں۔عمر تک استعمال ہو اِنْشَائَ اللّٰہ اس سے بہت فائدہ ہوگا اور تیز چیزیں اور تیز مصالح قرنفل وغیرہ اور کثرت شیرینی سے ہمیشہ پرہیز رکھیں اور آپ بھی ہمیشہ دعا کرتے رہیں۔میں آج بیمار ہوں زیادہ نہیں لکھ سکتا۔مرزا خدابخش صاحب کا لڑکا ابھی تک خطرناک حالت میں ہے۔ظاہراً زندگی کا خاتمہ معلوم ہوتا ہے، جان کندن کی سی حالت ہے۔خدا تعالیٰ رحم فرماوے۔میرے ہاتھ میں چوٹ آگئی ہے اور تپ بھی ہے۔والسلام خاکسار ۵؍ نومبر ۱۸۹۸ء مرزا غلام احمد