مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 230

مکتوبنمبر۳۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔الحمدللّٰہ والمنتہ کہ آپ کو اس نے اپنے فضل و کرم سے شفابخشی۔میں نے آپ کے لئے اب کی دفعہ غم اٹھایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ قادیان میں جس بڑی عمر کے آدمی کو جو اسّی برس سے زیادہ کی عمر کاتھا۔چیچک نکلی وہ جانبر نہیں ہو سکا۔ہمارے ہمسایوں میں دوجوان عورتیں اس مرض سے راہی ملک بقاہوئیں۔آپ کو اطلاع نہیں دی گئی۔یہ بیماری اس عمر میں نہایت خطرناک تھی۔بالخصوص ا ب کی دفعہ یہ چیچک وبائی طرح پر ہوئی ہے۔اس لئے نہایت اضطراب اور دلی درد سے نماز پنجگانہ میں اور خارج نماز گویا ہر وقت دعا کی گئی۔اصل باعث عاقبت خدا کا فضل ہے جو بموجب وعدہ اللہ سے بہت سی امیدیں اس کے فضل کے لئے ہو جاتی ہیں۔مجھے کثرت مخلصین کی وجہ سے اکثر زمانہ غم میں ہی گزرتا ہے۔ایک طرف فراغت پاتا ہوں۔دوسری طرف سے پریشانی لاحق حال ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی بہت سی عنایات کی ضرورت ہے۔جس کو میں مشاہدہ بھی کرتا ہوں۔اب یہ غم لگا ہوا ہے کہ چند دفعہ الہامات اور خوابوں سے طاعون کاغلبہ پنجاب میں معلوم ہو اتھا۔جس کے ساتھ یہ بھی تھا کہ لوگ توبہ کریں گے۔اورنیک چلن ہو جائیںگے۔تو خد اتعالیٰ اس گھر کو بچا لے گا۔لیکن نیک ہونے کاکام بڑا مشکل ہے اگرچہ بدچلن بدمعاش اور طرح طرح کے جرائم ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔اگر پنجاب میں وبائے طاعون یا ہیضہ پھوٹا تو بڑی مصیبت ہوگی۔بہت سے گھروں میں ماتم ہو جائیں گے۔بہت سے گھر ویران ہو جائیںگے۔مرزا خدابخش صاحب پہنچ گئے۔ان کے گھر میں بیماری ہے۔تپ روز چڑھتا ہے اور جگر اور معدہ ضعیف معلوم ہوتا ہے۔مولوی صاحب کی دوسری لڑکی انہیں دنوں سے بیمار ہے جب کہ آپ نے بلایا تھا۔اب بظاہر ان کی زندگی کی چنداں امید نہیں۔حواس میں بھی فرق آگیا ہے اورمولوی صاحب بھی ہفتہ میں ایک مرتبہ بیمار ہوجاتے ہیں۔بعض دفعہ خطرناک بیماری ہوتی ہے۔میرے دل میں خیال ہے کہ اپنے اور اپنی جماعت کے لئے خاص طو ر پر ایک قبرستان بنایا جائے جس