مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 195
سے شیطان اس کے خواب میں دور رہے؟ جو شخص ان راہوں پر چلے گا جو رحمانی راہیں ہیں، خود شیطان اس سے دور رہے گا۔اب اگر یہ سوال ہو کہ جبکہ شیطان کے دخل سے بکلّی امن نہیں تو ہم کیونکر اپنی خوابوں پر بھروسہ کرلیں کہ وہ رحمانی ہیں۔کیا ممکن نہیں کہ ایک خواب کو ہم رحمانی سمجھیں اور در اصل وہ شیطانی ہو اور یا شیطانی خیال کریں اور دراصل وہ رحمانی ہو؟ توا س وہم کا جواب یہ ہے کہ رحمانی خواب اپنی شوکت اور برکت اور عظمت اور نورانیت سے خود معلوم ہو جاتی ہے۔جو چیز پاک چشمہ سے نکلی ہے وہ پاکیزگی اور خوشبو اپنے اندر رکھتی ہے اور جو چیز ناپاک اور گندے پانی سے نکلی ہے اس کا گند اور اس کی بدبُو فی الفور آجاتی ہے۔سچی خوابیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں وہ ایک پاک پیغام کی طرح ہوتی ہیں۔جن کے ساتھ پریشان خیالات کا کوئی مجموعہ نہیں ہوتا اور اپنے اندر ایک اثر ڈالنے والی قوت رکھتی ہیں اور دل ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں اور روح گواہی دیتی ہے کہ یہ منجانب اللہ ہے کیونکہ اس کی عظمت اور شوکت ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر دھنس جاتی ہے۔اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص سچی خواب دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے کسی مجلسی کو بطور گواہ ٹھہرانے کے وہی خواب یا اس کے کوئی ہمشکل دکھلا دیتا ہے۔تب اس خواب کو دوسرے کی خواب سے قوت مل جاتی ہے۔سو بہتر ہے کہ آپ کسی اپنے دوست کو رفیق خواب کر لیں جو صلاحیت اور تقویٰ رکھتا ہو اور اس کوکہہ دیں کہ جب کوئی خواب دیکھے، لکھ کر دکھلا وے اور آپ بھی لکھ کر دکھلاویں۔تب امید ہے کہ سچی خواب آئے گی تو ا س کے کئی اجزاء آپ کی خواب میں اور اس رفیق کی خواب میں مشترک ہوں گے اورایسا اشتراک ہو گا کہ آپ تعجب کریں گے۔افسوس! کہ اگر میرے رُوبرو آپ ایساارادہ کرسکتے تو میں غالب امید رکھتا تھا کہ کچھ اعجوبہ قدرت ظاہر ہوتا۔میری حالت ایک عجیب حالت ہے۔بعض دن ایسے گزرتے ہیں کہ الہامات الٰہی بارش کی طرح برستے ہیں اور بعض پیشگوئیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ایک منٹ کے اندر ہی پوری ہو جاتی ہیں اور بعض مدت دراز کے بعد پوری ہوتی ہیں۔صحبت میں رہنے والا محروم نہیں رہ سکتا کچھ نہ کچھ تائید الٰہی دیکھ لیتا ہے جو اس کی باریک بین نظر کے لئے کافی ہوتی ہے۔اب میں متواتر دیکھتا ہوں کہ کوئی امر ہونے والا ہے۔میں قطعاً نہیں کہہ سکتا کہ وہ جلد یا دیر سے ہو گا۔مگر آسمان پر کچھ تیاری ہورہی ہے تا خدائے تعالیٰ بدظنّوں کو