مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 194
کیونکہ وہ ایک سخت ہیبت اور شوکت اور روشنی اپنے اندر رکھتی ہے اور قولِ ثقیل اور شدید النزول بھی ہے اور اس کی تیز شعاعیں شیطان کو جلاتی ہیں۔اس لئے شیطان اس کے نام سے دور بھاگتا ہے اور نزدیک نہیں آسکتااور نیز ملائک کی کامل محافظت اس کے ارد گرد ہوتی ہے۔لیکن وحی غیر متلوّ جس میںنبی کا اجتہاد بھی داخل ہے، یہ قوت نہیں رکھتی۔اس لئے تمنّا کے وقت جو کبھی شاذ و نادر اجتہاد کے سلسلہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔شیطان نبی یا رسول کے اجتہاد میں دخل دیتا ہے پھر وحی متلوّ اس دخل کو اُٹھادیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے بعض اجتہادات میں غلطی بھی ہوگئی ہے جو بعد میں رفع کی گئی۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ کا یہ قانونِ قدرت ہے کہ نبی بلکہ رسول کی ایک قسم کی وحی میں بھی جو وحی غیر متلوّہے، شیطان کا دخل بموجب قرآن کریم کی تصریح کے ہوسکتا ہے تو پھر کسی دوسرے شخص کو کب یہ حق پہنچتا ہے کہ اس قانونِ قدرت کی تبدیلی کی درخواست کرے۔ماسوا اس کے صفائی اور راستی خواب کی اپنی پاک باطنی اور سچائی اور طہارت پر موقوف ہے۔یہی قدیم قانون قدرت ہے جو اس کے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی معرفت ہم تک پہنچا ہے کہ سچی خوابوں کیلئے ضرور ہے کہ بیداری کی حالت میں انسان ہمیشہ سچا اور خدا تعالیٰ کیلئے راستباز ہو۔اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص اس قانون پر چلے گا اور اپنے دل کو راست گوئی اور راست روی اور راست مَنشی کا پورا پورا پابند کرلے گا تواس کی خوابیں سچی ہوں گی۔اللہ جلّشانہ‘ فرماتا ہے۱؎ یعنی جو شخص باطل خیالات اور باطل نیات اور باطل اعمال اور باطل عقائد سے اپنے نفس کو پاک کر لیوے وہ شیطان کے بند سے رہائی پا جائے گا اور آخرت میں عقو بات اُخروی سے رُستگار ہوگا اور شیطان اس پر غالب نہیں آسکے گا۔ایسا ہی ایک دوسری جگہ فرماتا ہےٌ۲؎ یعنی اے شیطان میرے بندے جو ہیں جنہوں نے میری مرضی کی راہوں پر قدم مارا ہے ان پر تیرا تسلط نہیں ہوسکتا۔سوجب تک انسان تمام کجیوں اورنالائق خیالات اور بیہودہ طریقوں کو چھوڑ کر صرف آستانۂِ الٰہی پر گرا ہوا نہ ہوجائے تب تک وہ شیطان کی کسی عادت سے مناسبت رکھتا ہے اور شیطان مناسبت کی وجہ سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس پر دوڑتا ہے۔اورجب کہ یہ حالت ہے تو میں الٰہی قانون قدرت کے مخالف کون سی تدبیر کرسکتا ہوں کہ کسی