مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 183

وجود سے میرا وجود ملا ہو اہے۔پس اس حدیث میں حضرت مسیح کے اس فقرہ کی تصدیق ہے کہ وہ نبی میرے نام پر آئے گا۔سو ایسا ہی ہو اکہ ہمارا مسیح صلی اللہ علیہ وسلم جب آیا تو اس نے مسیح ناصری کے ناتمام کاموں کو پورا کیا اور اس کی صداقت کے لئے گواہی دی اور ان تہمتوں سے اس کو بری قرار دیا جو یہود اورنصاریٰ نے اس پر لگائی تھیں اور مسیح کی روح کو خوشی پہنچائی۔یہ مسیح ناصری کی روحانیت کا پہلا جوش تھا جو ہمارے سیّد ہمارے مسیح خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے اپنی مراد کو پہنچا۔فالحمدللہ۔پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصارٰی میں دجّالیت کی صفت اتم اور اکمل طور پر آگئی اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعوٰی بھی کرے گا اور خدائی کا بھی۔ایسا ہی انہوں نے کیا۔نبوت کا دعوٰی اس طرح پر کیا کہ کلام الٰہی میں اپنی طرف سے وہ دخل دئے، وہ قواعد مرتب کئے اور وہ تنسیخ ترمیم کی جو ایک نبی کا کام تھا۔جس حکم کو چاہا قائم کر دیا اور اپنی طرف سے عقائد نامے اورعبادت کے طریقے گھڑے اور ایسی آزادی سے مداخلت بیجا کی کہ گویا ان باتوں کے لئے وحی الٰہی ان پر نازل ہو گئی۔سو الٰہی کتابوں میں اس قدر بیجا دخل دوسرے رنگ میں نبوت کادعوٰی ہے۔اور خدائی کا دعوٰی اس طرح پر کہ ان کے فلسفہ دانوں نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح تمام کام خدائی کے ہمارے قبضہ میں آجائیں جیساکہ ان کے خیالات اس ارادہ پر شاہد ہیں کہ وہ دن رات ان فکروں میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح ہم ہی مینہہ برسائیں اور نطفہ کو کسی آلہ میں ڈال کر اوررحم عورت میں پہنچا کر بچے بھی پید اکر لیں۔اور ان کاعقیدہ ہے کہ خدا کی تقدیر کچھ چیز نہیں بلکہ ناکامی ہماری بوجہ غلطی تدبیر تقدیر ہو جاتی ہے اور جوکچھ دنیا میں خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ صرف اس وجہ سے ہے کہ پہلے زمانہ کے لوگوں کو ہر یک چیز کے طبعی اسباب معلوم نہیں تھے اور اپنے تھک جانے کی حد انتہا کا نام خدا اور خدا کی تقدیر رکھا تھا۔اب علل طبعیہ کا سلسلہ جب بکلّی لوگوں کو معلوم ہو جائے گا تو یہ خام خیالات خود بخودد ُور ہو جائیں گے۔پس دیکھنا چاہئے کہ یورپ اور امریکہ کے فلاسفروں کے یہ اقوال خدائی کا دعویٰ ہے یا کچھ اور ہے؟ اسی وجہ سے ان فکروں میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح مُردے بھی زندہ ہوجائیں۔اور امریکہ میں ایک گروہ عیسائی فلاسفروں کا انہی باتوں کا تجربہ کر رہا ہے۔اور مینہہ برسانے کا کارخانہ تو شروع ہو گیا اور ان کا منشاء ہے کہ