مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 182
برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔اس لئے کہ مجھ ہی سے حاصل کرکے تمہیں خبریں دے گا۔جو کچھ باپ کا ہے وہ سب میرا ہے۔اس لئے میں نے کہا کہ وہ مجھ ہی سے حاصل کرتا ہے اور تمہیں خبریں دے گا‘‘۔(لوقا :باب ۱۳ ،آیت: ۳۵) ان آیات میں مسیح کا یہ فقرہ کہ میں اسے تم پاس بھیج دوں گا۔اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ مسیح کی روحانیت اس کے آنے کے لئے تقاضا کرے گی اور یہ فقرہ کہ باپ اس کو میرے نام سے بھیجے گا۔اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ آنے والا مسیح کی تمام روحانیت پائے گا اور اپنے کمالات کی ایک شاخ کی رو سے وہ مسیح ہو گا۔جیسا کہ ایک شاخ کی رو سے وہ موسیٰ ہے۔بات یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں۔کیونکہ وہ وجودِ پاک جامع کمالاتِ متفرقہ ہے۔پس وہ موسیٰ بھی ہے اور عیسیٰ بھی اورآدم بھی اورابراہیم بھی اور یوسف بھی اور یعقوب بھی۔اسی کی طرف اللہ جلّشانہٗ اشارہ فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی اے رسول اللہ! تو ان تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کرلے جو ہر یک نبی خاص طور پر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔پس اس سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کی شانیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں شامل تھیںاور درحقیقت محمد کانام صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ محمد کے یہ معنی ہیںکہ بغایت تعریف کیا گیا۔اور غایت درجہ کی تعریف تبھی متصور ہو سکتی ہے کہ جب انبیاء کے تمام کمالاتِ متفرقہ اورصفاتِ خاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوں۔چنانچہ قرآن کریم کی بہت سی آیتیں جن کا اس وقت لکھنا موجب طوالت ہے، اسی پر دلالت کرتی بلکہ بصراحت بتلاتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک باعتبار اپنی صفات اور کمالات کے مجموعہ انبیاء تھی اور ہر ایک نبی نے اپنے وجود کے ساتھ مناسبت پاکر یہی خیال کیا کہ میرے نام پر وہ آنے والا ہے۔اور قرآن کریم ایک جگہ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ ابراہیم سے مناسبت رکھنے والا یہ نبی ہے اور بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری مسیح سے بشدت مناسبت ہے اور اس کے