مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 11
مگر مناسب ہے کہ بروقت اس دعا کے فی الحقیقت دل کامل جوش سے اپنے گناہ کا اقرار اور اپنے مولیٰ کے انعام اکرام کا اعتراف کرے کیونکہ صرف زبان سے پڑھنا کچھ چیز نہیں جوش دلی چاہئے اور رقت اور گریہ بھی۔یہ دعامعمولات اس عاجز سے ہے اور درحقیقت اسی عاجز کے مطابق حال ہے۔٭ والسلام ۲۰؍ اگست ۱۸۸۵ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ نمبر۱: اس مکتوب پر حضرت حکیم الامت کا نوٹ ہے۔یہ لڑکا اس وقت اس مرض سے بچ گیا تھا۔پھر دوبارہ سُعال وام الصبّیان میں انتقال کرگیا۔اِنَّا بِفِرَاقِہٖ لَمَحْزُوْنَ وَ اَدْعُواللّٰہَ بَدْلَہٗ نورالدین۔۲؍اسوج ۱۹۴۳ بکرمی نوٹ نمبر۲: اس مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا مرقوم ہے جو آپ کے معمولات سے تھی اور نیز آپ نے قبول ہونے والی دعا کا راز بتایا ہے۔اس دعا کو پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اندرون خانہ لائف پر ایک قسم کی روشنی پڑتی ہے اور یہ ان ایام کی بات ہے کہ آپ دنیا میں شہرت یافتہ نہ تھے۔آپ کا کوئی دعویٰ نہ تھا۔کسی سے بیعت بھی نہ لیتے تھے بلکہ ایک گوشہ گزین کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔خدا تعالیٰ پر کس قدر یقین اور قبولیت دعا پر کس قدر بھروسہ تھا۔اور آپ کے اعمال شب کی حقیقت بھی عیاں ہے نیز حضرت حکیم الامت کا نوٹ بتاتا ہے کہ وہ بچہ اس وقت بچ گیا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ تھا۔خدا تعالیٰ نے اس وقت تقدیر کو ٹال دیا۔یہ لڑکا فضل الٰہی نام حضرت حکیم الامت کی پہلی بیوی میں سے تھا۔(عرفانی)