مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 155
ڈالتے ہیں۔عوام جلدی سے کسی کو کافر اور کسی کو بے دین کہہ دیتے ہیں اور محققین اس کی ذرا پرواہ نہیں کرتے۔اگر ہم صدیقی اور فاروقی خدمات کو جو اپنی زندگی میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کیں لکھیں تو بلاشبہ وہ ایک دفتر میں بھی ختم نہیں ہو سکتیں۔لیکن اگر ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمات کو لکھنا چاہیں تو کیا ان دو تین فقروں کے سوا کہ وہ انکار بیعت کی وجہ سے کربلا کے میدان میں روکے گئے اور شہید کئے گئے۔کچھ اور بھی لکھ سکتے ہیں؟ بیشک یہ کام ایسا عمدہ ہوا کہ ایک فاسق دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہیں کی۔مگر اعتراض تو یہ ہے کہ وہ اپنے باپ بزرگوار کے قدم پر کیوں نہ چلے۔باپ نے تو بقول شیعوں کے تین فاسق آدمیوں کے ہاتھ پر جو بزعم ان کے مرتد سے بدتر تھے اور بقول ان کے صرف معمولی بادشاہوں میں سے تھے، بیعت کر لی اور بیٹے نے تو اپنے باپ کے طریق سے اعراض کر کے ایک فاسق کی بیعت بھی نہیں کی اور انکار ہی میں جان دی۔بہرحال یہ اتفاقی حادثہ تھا جو امام صاحب کو پیش آ گیا اور بڑا بھاری ذخیرہ ان کے درجہ کا صرف یہی ایک حادثہ ہے جس کو محض غلو اور نا انصافی کی راہ سے آسمان تک کھینچا جاتا ہے اور وہ بزرگوار صحابہ جو رسولوں کی طرح دنیا میں کام کر گئے اور ہر میدان میں جان فدا کرنے کے لئے حاضر ہوئے ان سے بقول آپ کے لاپرواہی تو آپ کا طریق ہے۔یہ فیصلہ توآسانی سے ہو سکتا ہے چونکہ دنیا دارالعمل ہے اور میدانِ حشر میں مراتب بلحاظ اعمال ملیں گے۔پس جس کے دل میں امام حسن و حسین کی وہ عظمت ہے کہ اب وہ دوسرے صحابہ سے لاپرواہ ہے اس کو چاہئے کہ ان کی خدمات شائستہ دین کی راہیں پیش کرے اگر ان کی خدمات کا پلّہ بھاری ہے تو بلاشبہ وہ دوسرے صحابہ سے افضل ٹھہریںگے ورنہ ہم اس بات کے توقائل نہیں ہو سکتے کہ خواہ نخواہ کسی کو افضل ٹھہرایا جاوے۔اوریہ خیال کرنا کہ ان کی فضیلت یہی کافی ہے کہ وہ نواسے تھے یہ خیال کوئی عقلمند نہیں کر سکتا۔کیونکہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ نواسہ ہونا کچھ بھی چیز نہیں ایک ذرا سا رشتہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی لڑکیاں تھیں اور نواسے بھی کئی تھے کس کس کی ہم پرستش کریں یہ آیت کریمہ ہمارے لئے کافی ہے ۱؎ مجھ پر اللہ جلّشانہٗ نے کھول دیا ہے کہ اس زمانہ کا اتّقا صدیق اکبر ہے بعض لوگوں کو یہ بھی دھوکہ لگا ہو ا ہے کہ وہ مناقب کسی بزرگ کے پیش کر دیا کرتے ہیں یعنی