مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 154
ہے۔صدیق اکبر اور عمر فاروق کے حق میں اس قدر پُر تعریف کلمات نبوی پائے جاتے ہیں کہ گویا ان دونوں بزرگواروں کو نبی قرار دیا گیا ہے۔مگر ہماری نظر میں مجرد مناقب کوئی چیز نہیں صرف طرح طرح کے پیرایوں میں سچے مومنوں کی تعریفیں کی ہیں اور اس بات کا فیصلہ کہ ان میں سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ اور ان بزرگوں کی خدمات سے کرنا چاہئے کہ اسی کی طرف اللہ جلّشانہٗ ہدایت فرماتا ہے۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ بیعت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان ہر ایک قولی و فعلی و اعتقادی نا انصافی سے بکلّی دست بردار ہو جاوے کیونکہ بیعت راہ راست حاصل کرنے کے لئے ہے۔اگر بہرحال اسی راہ پر قائم رہتا ہے کہ جو تقلیدی طور پر اختیار کیا گیا ہے تو پھر بیعت سے حاصل ہی کیا ہے ؎ ہر کجا شمع ہدایت یا فتی پروانہ باش گر خرد مندی پے راہ ہدا دیوانہ باش (۴) اگر چہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا اور دست بستہ کھڑا ہونا قانون فطرت کی رو سے بھی بندگی کے لئے مناسب ہی معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر ہاتھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھتے ہیں تو نماز ہو جاتی ہے۔مالکی بھی شیعوں کی طرح ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔مسنون وہی طریق ہے جو اوپر بیان ہوا اس قدر اختلاف بیعت کا کچھ ہارج نہیں اگر چہ احادیثِ صحیحہ میں اس کانام و نشان بھی نہیں۔(۵) یہ ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ نشانوں کے چاہنے والے دو ہی قسم کے آدمی ہوتے ہیں یا غایت درجہ کے دوست یا غایت درجہ کے دشمن یعنی جب کوئی انسان مقبول خدا تعالیٰ سے غایت درجہ کی دوستی و محبت اختیار کرے یہاں تک کہ اس کی راہ میں قربان ہو جائے اور اس کی خاکپا ہو جائے تو وہ اپنے حوادث اور مصائب کے وقت یا تکمیل مدارج ایمان کے لئے رحمت کے نشان پاتا ہے اور اس کی برکت اور صحبت سے جذبات نفسانی کم ہوتے جاتے ہیں اور ذوق اور محبت بڑھتی جاتی ہے اور دنیا کی محبت کم اور ٹھنڈی ہوتی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے نشانوں کے ذریعہ سے اس پر ظاہر کرتا جاتا ہے کہ یہ شخص محبوبان اور مقبولانِ الٰہی میں سے ہے اور عادت اللہ قدیم سے ایسی ہی جاری ہے کہ جب اس درجہ پر کسی کی ارادت پہنچ جائے تو اس کا ایمان کامل کرنے کے لئے کئی قسم کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پیشتر آزمائش صدق کے اور محققین حقیقت پر نظر