مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 125
مکتوب نمبر۸۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچ کر علالت طبع آنمکرم سے بہت متردّد ہوا۔رات کو آپ کی صحت کیلئے بہت دعا کی گئی۔امید کہ خداوندکریم اپنے فضل و کرم سے صحت بخشے۔اخویم مولوی عبدالکریم کی تحریر آپ کی بیماری میں زیادہ دل کو صدمہ پہنچاتی ہے۔اگر کل آنمکرم کا دستخطی خط نہ آیا ہوتا تو معلوم نہیں مولوی عبدالکریم صاحب کی تحریرسے کس قدر قلق و اضطراب دل پر ہوتا۔خدا تعالیٰ بہت جلد آپ کو شفا بخشے۔تمام غم راحت سے مبدّل ہو جائیں گے۔اللہ جلّشانہٗ جانبین میں خیرو عافیت رکھے اور آپ کی عمر میں صحت اورعافیت اور دین و دنیا کی سعادت کے ساتھ برکت سے بھری ہوئی درازی بخشے۔آمین ثم آمین۔۱؎ میاں عبدالحق اور مولوی عبدالرحمن صاحب کی تحریروں کا آپ ذرا فکر نہ کریں۔یہ ایک ابتلاء ہے خدا تعالیٰ آپ اُس کو اُٹھا دے گا۔غور کا مقام ہے کہ جس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوتِ حقّہ کی تبلیغ کر رہے تھے اور کلام ربّانی نازل ہو رہا تھا اس وقت مسیلمہ کذّاب اور اسود عنسی نے کیا کیا فتنے برپا کر دیئے تھے۔ایک طرف قرآن کریم کی یہ سورتیں نازل ہوئیں۔۲؎ اور اس کے مقابلہ پر مسیلمہ نے اپنی وحی یہ سنائی۔اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِالْحُبْلٰی اَخْرَجَ مِنْھَا۔ظاہر ہے کہ ایسے کذّاب کے کھڑے ہونے سے کیا کیا فتنے ہوئے ہوںگے اور جس وقت سادہ لوح لوگ ایک طرف وحی قرآنی سنتے ہوںگے اور ایک طرف مسیلمہ کی شیطانی تکیں ان کے کانوں تک پہنچتی ہوںگی تو کیا کیا ابتلا انہیں پیش آتے ہوںگے۔ایسا ہی ابنِ صیاد نے بہت فتنہ ڈالا تھا اور یہ تمام لوگ ہزار ہا لوگوں کی ہلاکت کا موجب ہوئے تھے لیکن آخر خدا تعالیٰ نے حق کی روشنی ظاہر کر دی اور مومنین پر سکینت اور اطمینان نازل کی۔