مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 658
ابھی ابجد شروع کی ہے کیوں نہ ہو وجودی جو ہوئے۔وجودی ستر۷۰پردوںکے اند ر شناخت کیا جاتا ہے۔۔۱؎ قولہ:کیوں ایسا کیا جس کا ثابت کرنا اپنے اختیار میں نہیں۔اقول: اے بے شرم! ایسا دعوی کس نے کیا جس کا ثبوت اختیار سے باہر ہو۔ہم نے تو وہ دعوی کیا جو آفتاب کی طرح روشنی دکھلا رہا ہے۔محبانِ خد ااور رسول کبھی ذلیل نہیںہوتے اور نہ وہ جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔وہی آخر فتح پاتے ہیں کیونکہ ہر میدان میں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتاہے۔۔۲؎ قولہ:آنراکہ خبر شد خبر ش بازنیامد۔اقول:قال اللہ تعالیٰ۔۔۳؎ اس زمانہ کے جاہل یہ خیال کرتے ہیں کہ اپنے تئیںظاہر کرنا منافی شان و لایت ہے۔ان کے نزدیک ولی وہی ہے کہ جو خبر ش باز نیامد کا مصداق ہو۔لیکن اصل حقیقت وہ ہے جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ مردانِ کامل پر لازم و واجب کیا جاتا ہے کہ اپنے تئیں ظاہر کریں۔وہ اظہار کے لئے مامور ہوتے ہیں جیسے دوسرے اخفا کے لئے۔اسی وجہ سے انبیاء و رسول اپنے تئیں ظاہر کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ بوجہ عظمت قربت نبیوں او ر رسولوں کے حکم میں اور انہیں کے قائمقام اور انہیں کی قوتیں اپنے اندر رکھتے ہیں۔وہ عورتوں کی طرح چھپ کر نہیں رہتے کیونکہ وہ روحانی طور پر جنگی مرد ہیں۔ہاں جو ایسے عابد اور زاہد ہیں جو مخنث کے حکم میںہیں۔ان کو چاہیے کہ برقعہ پہن کر بیٹھیںورنہ یاد رکھیں کہ ولایت سلب ہوجائیگی۔اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ حضرت شیخ سعدی کے مصرعہ مذکور بالا سے مطلب ہی اور ہے جس کو نادان وجودی نہیں سمجھتے اور وہ یہ ہے کہ جو باطنی تعلقات اولیاء اللہ کو اللہ شانہٗ سے ہوتے ہیں۔ان تعلقات سے کسی کو کچھ خبر نہیں ہوتی۔وہ اپنے ربّ جلیل سے ایک ایسی نسبت رکھتے ہیں کہ انسان تو کیا فرشتوں کو بھی اس پر اطلاع نہیں ہوتی۔ہاں ہر ایک صاحب بصیرت حسب استعداد خود ان کی ظاہری استقامت و برکات سے ان کی عظمت کا