مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 649
کہ فقیر کو وحدۃ الوجود میں کچھ شبہ نہیں کس قدر شرم کی بات ہے۔کاش وجودی لوگ آیت کریمہ۱؎ غور سے پڑھتے اور اپنی بساط سے بڑھ کر قد م نہ رکھتے۲؎ قولہ: شبہ صرف اس بات میںہے کہ آپ کا دعوی مجدد ہونے کا اور صاحب الہام ہونے کا سچا ہے یا جھوٹا۔اقول: یہ دعوی ایسا نہیںکہ وجودیوں کے پُر تزویر مشائخ کی طرح صرف چند سادہ لوح اور بے وقوف مریدوں میں کیا گیا ہو۔بلکہ یہ دعوی بفضلہ تعالیٰ و توفیقہٖ میدانِ مقابلہ میں کروڑ ہا مخالفوں کے سامنے کیا گیا ہے اور قریب تیس ہزار کے اس دعوی کے دکھلانے کے لئے اشتہارات تقسیم کئے گئے۔اور آٹھ ہزار انگریزی اشتہار اور خطوط انگریزی رجسٹری کراکر ملک ہند کے تمام پادریوں اور پنڈتوں اور یہودیوں کی طرف بھیجے گئے اور پھر اس پر اکتفا نہ کرکے انگلستان اور جرمن اور فرانس اور یونان اور روس اور روم اور دیگر ممالک یورپ میں بڑے بڑے پادریوں کے نام اور شہزادوں اور وزیروں کے نام روانہ کئے گئے۔چنانچہ ان میں سے شہزادہ پرنس آف ویلز و لی عہد تخت انگلستان اور ہندوستان، اور گلیڈ سٹون وزیر اعظم اورجرمن کا شہزادہ بسمارک ہے۔چنانچہ تمام صاحبوں کی رسیدوں سے ایک صندوق بھرا ہوا ہے۔پس کیا ایسی کارروائی مکر وفریب میں داخل ہوسکتی ہے؟ کیا کسی مکار کو یہ جرأت ہے کہ ایسا کام کرکے دکھلاوے؟ ہاں یہ سچ ہے کہ ان کارروائیوں سے وجودیوں کے دل پر بڑا صدمہ ہے۔چنانچہ اس جگہ کے وجود ی بھی دیکھ دیکھ کر آتش حسد میں جل رہے ہیں کیونکہ وہ درحقیقت اللہ اور رسول کے دشمن ہیں اور وہ چاہتے ہی نہیں کہ اللہ اور رسول کا بول بالاہو۔ ۳؎ اور اگر آپ کے یا آپ کے کسی اور بھائی وجودی کے دل میںیہ شک ہو کہ دوسرے کفار کی طرح ہمیں