مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 647
خمکتوب نمبر ۱ مسئلہ وحدت الوجود بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد۔سلام علی من اتبع الھدٰی۔منشی مظہر حسین صاحب کو واضح ہو۔آپ کا خط پہنچا۔باوجود عدم فرصتی محض لِلّٰہ آپ کے فائدہ کے لئے بترتیب اقوال جداگانہ یعنی بطور قولہ و اقول ذیل میں جواب لکھا جاتاہے۔قولہ ـ:فقیر کو نہ مسئلہ وحدت الوجود میں کچھ شبہ ہے نہ مسئلہ وحدت الشہود میں۔اقول: آپ اپنے پہلے خط میں اقرار کر چکے ہیںکہ یہ مسئلہ حالی طور سے مجھ پر منکشف نہیں اور نہ عقلی طور پر منکشف ہے۔صرف قرآن شریف کی بعض آیات کے رُو سے اپنے خیال میں اس مسئلہ کو حق سمجھا گیا ہے۔آپ کو اس کے جواب میں لکھا گیا تھا کہ بیناتِ قرآنیہ ہرگز اس مسئلہ کی تائید نہیں کرتیں بلکہ قرآن شریف نے جا بجا امتیاز حقیقی خالق او ر مخلوق میں بتایا ہے ۱؎ ۲؎ یہ کہاں قرآن شریف میںلکھا ہے کہ مخلوق خالق کا حقیقت میں عین ہی ہے صرف تغایر اعتباری ہے۔سو میں اب بھی کہتا ہوں اور باصرار کہتا ہوں کہ قرآن شریف پر وجود یوں کی یہ تہمت ہے۔بینات کو چھوڑ کر متشابہات کی پیروی کرنا کج دل آدمیوں کا کام ہے۔اگر قرآن شریف کا حصہ کثیر جو حقیقی طور پر عابد اور معبود اور خالق اور مخلوق میں دائمی فرق کرکے دکھلاتا ہے ایک طرف اکٹھا کیا جاوے اور دوسری طرف وہ چند آیات متشابہات دکھلائی جائیں جن کو وجود ی محض تعصب اور نادانی کی وجہ سے اپنے دعوی کی دستاویز بنانا چاہتے ہیں تو طالب حق کو واضح ہو کہ کس قدر ان کے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اورکیسے وہ طریق انصاف اور طلب حق سے دور جاپڑ ے ہیں۔اب ذرا ہوش کرکے دیکھو کہ اس استد لال کا تو یہ حال ہے کہ جو قرآن شریف سے کیا جاتا ہے اور حال سے تو وجودیوں کو کچھ بہرہ ہی نہیں اور نہ کسی وجودی کو کبھی کامل طور پر ہوا۔جیسا کہ اپنی تہی دستی