مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 622
ہرگز قادر نہیں کہ اُن کو ہمیشہ کے لئے نجات دے سکے۔اب جو لوگ عشقِ الٰہی کی ایک چنگاری بھی اپنے اندر رکھتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ ایسی بے مروّتی اُس محبوب حقیقی سے ہرگز نہیں ہو سکتی کہ عزت دے کر پھر بے عزت کرے اور ایک نعمت بخش کر پھر اُس کو چھین لے۔ایک دفعہ اپنا پیارا اور مقرب بنا کر پھر ناکردہ گناہ کیڑوں مکوڑوں اور کتوں بلّوں کی جونوں میں ڈالتا رہے۔جس شخص کو محبتِ الٰہی کے جام سے ایک گھونٹ بھی میسر ہے اُس کی عارف اللہ روح جو اس جوادِ مطلق پر بڑی بڑی امیدیں رکھتی ہے اور سب کچھ کھو کر اُسی کی ہو رہی ہے۔ہرگز اس کو یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ اس کا پیارا اور محبوب جانی آخر اُس سے ایسا معاملہ کرے گا کہ اس کی سب امیدیں خاک میں ملا کر اور اُس کی خوشحالی دائمی کی خواہش جو اُس کے دل میں ڈالی گئی ہے نظر انداز کر کے اُس کو اُس مصروع کی طرح جو بار بار دورہ صرع سے دُکھ اُٹھاتا ہے مختلف جونوں کے عذاب سے معذّب کرتا رہے گا۔اُس کے صدق اور وفا پر اُس کو کچھ بھی خیال نہیں آئے گا اور اس کے خالص محبوں پر اُس کو کچھ بھی نظر نہیں ہوگی۔افسوس کہ ہندو لوگ ایسا اعتقاد رکھنے سے خود اپنے اوتاروں اور رشیوں کی عزت کو خاک میں ملاتے ہیں۔کہ اوّل ان کو بڑے مقبول الٰہی بلکہ خدا کا اوتار سمجھ کر پھر اُن کے لئے یہ تجویز کرتے ہیں کہ اُن بیچاروں کو بھی نجات ابدی نہیں اور وہ کیڑے مکوڑے اور کتّے بلّے بننے سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتے۔جن لوگوں کو ان مقدس ویدوں کی خبر نہیں وہ تعجب کریں گے کہ یہ کیسے اصول ہیں جو ویدوں کی طرف نسبت دیئے گئے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ وہ بدگمانی سے یہ خیال کریں کہ یہ ویدوں پر تہمت ہے۔سو واضح ہو کہ ہم نے ان اصولوںکو کمال تحقیق اور تدقیق سے لکھا ہے اور اس وقت وید ہمارے سامنے پڑا ہے اور اُس کے بھاش ہمارے پاس موجود ہیں۔اگر کسی کو شک ہو تو ہر طرح ہم سے تسلی کرا سکتا ہے اور خود ویدوں کے ماننے والے اس سے بے خبر اور انکاری نہیں ہیں اور اگر کوئی ہم تک نہ پہنچ سکے اور نہ پنڈتوں سے دریافت کر سکے تو ہم اس کو صلاح دیتے ہیں کہ وہ رِگ وید کو جو دہلی سوسائٹی میں بکمال سعی و تحقیق چھپا ہے۔ذرا نظر غور اور تدبر سے مطالعہ کرے اور پھر یہ بھی مناسب ہے کہ پنڈت دیانند کی ستیارتھ پرکاش اور وید بھاش کا بھی درشن کرے تا اُسے معلوم ہو کہ وید کیا شَے ہے اور اُس کی تعلیم کیسی ہے۔بعض جاہل ہندو اور مسلمان اپنشدوں کو جو براہم پشتک ہیں اور صدہا سال ویدوں کے بعد لکھے