مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 621
انسان غایت درجہ کا بدبخت اور بے نصیب ہوگا جس کے لئے سخت دل پرمیشر کا یہ ارادہ ہے کہ جب تک وہ بکلّی گناہوں کے صادر ہونے سے کہ جو انسان کی سرشت سے لازم ہوئے ہیں محفوظ نہ رہے تب تک مختلف جونوں کا تختہ مشق رہے گا۔اب دیکھنا چاہئے کہ اس کے مقابل پر یہ اصول قرآن شریف کا کیسا بابرکت اور پیارا اور تسلّی بخش اور انسانی فطرت کے لئے ضروری اور مناسب حال ہے کہ گناہ کا تدارک توبہ اور استغفار سے ہو سکتا ہے اور بدیوں کی تلافی نیکیوں سے ممکن ہے۔یہ ایسا ضروری اور لابدی اصول ہے کہ انسان کی مغفرت اور نجات یابی بجز اس کے ممکن ہی نہیں۔خیال کرنا چاہئے کہ اگر تمام انسانوں کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی عمر میں کسی قدر غفلت اور لہو و لعب یا نالائق باتوں اور بدچلنیوں میں رہ کر پھر کسی نیک صحبت کی برکت سے یا کسی واعظ اور ناصح کے سمجھانے سے یا اپنے ہی انصاف دلی کے جوش سے اس بات کے مشتاق ہو جایا کرتے ہیں کہ اب ہم خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور بُرے کاموں اور خراب راہوں کو چھوڑ دیں۔اب سوچنا چاہئے کہ اگر ایسے طالب حق کے لئے جناب الٰہی میں باریابی کی کوئی سبیل نہیں اور توبہ منظور ہی نہیں اور استغفار قبول ہی نہیں تو پھر وہ بیچارہ اپنی آخری بہبودی کیلئے اگر کچھ کوشش بھی کرے تو کیا کرے اور کیونکر کرے اور کدھر جائے۔ممکن ہے کہ وہ ایسے پرمیشر سے سخت ناامید اور شکستہ دل ہو کر اور اُس کی رحمت سے بکلّی ہاتھ دھو کر پھر اپنے گناہوں کی طرف رجعتِ قہقری کرے اور خوب دل کھول کر ہر قسم کے گناہ اور بدمعاشی سے تمتع اور حظّ اُٹھائے۔غرض یہ ایسا اصول ہے کہ نہ بندہ اُس سے اپنی نجات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی رحمت اس سے قائم رہتی ہے۔کیا یہ بات اللہ تعالیٰ کی عادت کریمانہ کے موافق ہے؟ کہ وہ انسان کی کامیابی میں اس قدر مشکلات ڈالے اور اس کی نجات کو معلق بالمحال کر کے اس کے گناہ کو ہمیشہ یاد رکھے مگر اس کے رجوع اور محبت اور توبہ اور استغفار کا ایک ذرہ قدر نہ کرے اور چوراسی لاکھ جون میں سے ایک جون کی تخفیف کرنے سے دریغ کرتا رہے۔کیا ایسے پرمیشرپر کوئی امید رہ سکتی ہے۔ہرگز نہیں۔پھر تیسرا اصول وید کا جو عقل کے برخلاف ہے یہ ہے کہ نجات ابدی کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔بلکہ لوگ کچھ مدت محدود تک نجات پا کر پھر مکتی خانہ سے ناکردہ گناہ باہر نکالے جاتے ہیں اور پرمیشر