مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 608
ابدال شام کے دعا کرتے ہیں اور بندے خدا کے عرب میں سے دعا کرتے ہیں۔خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیونکر اس کا ظہور ہو۔واللّٰہ اعلم بالصواب۔مناسب سمجھا تھا آپ کو اطلاع دوں۔۶؍ اپریل ۱۸۸۵ء مطابق ۱۹؍ جمادی الثانی ۱۳۰۲ھ مکتوب نمبر۵۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدوم مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کا اخلاص اور جوش محبت اپنے کمال کو پہنچ گیا۔۔۱؎ خداوندکریم سے چاہتا ہوں کہ آپ کا نشست خاطر بہ جمعیت مبدل ہو۔آمین ۱۹؍ اپریل ۱۸۸۵ء مطابق ۳؍ رجب ۱۳۰۲ھ مکتوب نمبر۵۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد۔بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہُ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا ان دنوںمیں ایک شخص اِندر مَن نام جو ایک سخت مخالف اسلام ہے اور کئی کتابیں ردّاسلام میں اُس نے لکھی ہیں۔مراد آباد سے اوّل نابھہ میں آیا اور راجہ صاحب نابھہ کی تحریک سے میرے مقابلہ کیلئے لاہور میں آیا اور لاہور میں آ کر اس عاجز کے نام خط لکھا کہ اگر چوبیس سَو روپیہ نقد میرے لئے سرکار میں جمع کرا دو تو میں ایک سال تک قادیان میں ٹھہروں گا۔سو یہ خط اُس کا بعض دوستوں کی خدمت میں لاہور میں بھیجا گیا۔سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دولتمند مسلمان نے ایک سال تک ادا ہو جانے کی شرط سے چوبیس سَو روپیہ نقد اس عاجز کے کارپردازوں کو بطور قرضہ کے دے دیا اور قریب دو سَو مسلمان کے جن میں بعض رئیس بھی تھے جمع ہو گئے اور وہ روپیہ مع ایک خط