مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 607
مرزا جان جانان صاحب کے خط کا ردّ کچھ مشکل نہیں۔مرزا صاحب مرحوم ہندوؤں کے اصولوں سے بکلّی ناواقف معلوم ہوتے ہیں۔اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰیکسی فرصت کے وقت ان کی نسبت کچھ تحریر کیا جائے گا۔اس عاجز کا یہ حال ہے کہ بعض گذشتہ اور تازہ الہامات سے قرب اَجَل کے آثار پائے جاتے ہیں گو صفائی سے نہیں بلکہ مشتبہ اور ذومعنیین الہام ہیں۔تا ہم فکر سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔اسی وجہ سے میں نے اپنی تمام ہمت کو اس طرف مصروف کیا ہے۔حصہ پنجم کی عبارت کو جلد مرتب اور بامحاورہ کر کے اور جو کچھ اس میں زائد داخل کرنا ہے وہ داخل کر کے تَوَکَّـلًا عَلَی اللّٰہِ چھپوانا شروع کر دوں کہ اس ناپائیدار اور ہیچ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔آپ بھی دعا کریں اور اخوی منشی احمد جان صاحب کو بھی لکھیں کیونکہ بعض تقدیرات بعض دعاؤں سے ٹل جاتی ہیں۔مکتوب نمبر۵۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ تعالیٰ۔بعدالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ عنایت نامہ مع مبلغ چالیس روپیہ پہنچا۔یہ عاجز آپ کا بغایت درجہ شکر گزار ہے اور اپنے مولیٰ کریم جلّ شانہٗ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ کو جزائے عظیم بخشے۔آج اسی وقت میں نے خواب دیکھا ہے کہ کسی ابتلاء میں پڑا ہوں اور میں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مؤاخذہ کرتا ہے۔میں نے اُس کو کہا۔کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے؟ اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہے کہ گرایا جائے گا۔میں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالیٰ جلّ شانہٗ کے تصرف میں ہوں۔جہاں مجھ کوبٹھائے گا، بیٹھ جاؤں گا اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا کھڑا ہو جاؤں گا۔اور یہ الہام ہوا۔یَدْعُوْنَ لَکَ اَبْدَالُ الشَّامِ وَعِبَادُ اللّٰہِ مِنَ الْعَرَبِ ۱؎ یعنی تیرے لئے