مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 604
خواب بہ طور کشف تھی چنانچہ اسی صبح کو نواب صاحب کو اس خواب سے اطلاع دی گئی پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک صاحب الٰہی بخش نام اکونٹینٹ نے کہ جو اس کتاب کے معاون ہیں کسی اپنی مشکل میں دعا کیلئے درخواست کی اور بطور خدمت پچاس روپیہ بھیجے۔اور جس روز یہ خواب آئی اس روز سے دو چار دن پہلے ان کی طرف سے دعا کیلئے الحاح ہو چکا تھا۔مگر یہ عاجز نواب صاحب کیلئے مشغول تھا اس لئے ان کیلئے دعا کرنے کو کسی اور وقت پر موقوف رکھا اور جس روز نواب صاحب کیلئے بشارت دی گئی تھی تو اس دن خیال آیا کہ آج منشی الٰہی بخش کیلئے توجہ سے دعا کریں۔سو بعد نماز عصر جب وقتِ صفا پایا اور دعا کا ارادہ کیا گیا تو پھر بھی دل نے یہی چاہا کہ اس دعا میں بھی نواب صاحب کو شامل کر لیا جائے۔سو اس وقت نواب صاحب اور منشی الٰہی بخش دونوں کیلئے دعا کی گئی۔بعد دعا اسی جگہ الہام ہوا۔نُنَجِّیْھِمَا مِنَ الْغَمِّ۔۱؎ یعنی ہم ان دونوں کو غم سے نجات دیں گے۔چونکہ یہ عاجز اُسی دن صبح کے وقت نواب صاحب کی خدمت میں خط روانہ کرچکا تھا اور بذریعہ رؤیائے صادقہ نواب صاحب کو بہت سی تسلّی دی گئی تھی اس لئے اسی خط پر کفایت کی گئی۔اور منشی الٰہی بخش کو اس الہام سے اطلاع دی گئی اور بروقت صدور اس الہام کے چند نمازی موجود تھے اور اتفاقاً دو ہندو مسمّٰی ملاوامل اور شرمپت رائے بھی کہ جو اکثر آیا جایا کرتے ہیں عین اس موقعہ پر موجود تھے۔ان کو بھی اسی وقت اطلاع دی گئی اور کئی مہمان آئے ہوئے تھے ان کو بھی خبر دی گئی۔پھر چند روز کے بعد نواب صاحب کا خط آ گیا کہ سرائے کا کام جاری ہو گیا ہے۔سو چونکہ دعا ایسے کام کیلئے کی گئی تھی اس لئے یہ اطلاع دینا فضول سمجھا گیا مگر خداوندکریم کا بڑا شکر ہے کہ مجمع کثیر میں یہ الہام ہوا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔عین الہام کے صدور کے وقت دو ہندو موجود تھے جن کو اُسی وقت مفصّل بتلایا گیا اور دوسرے نمازیوں کو بھی خبر دی گئی۔اور منشی الٰہی بخش کو بھی لکھا گیا۔نواب علی محمد خان صاحب کی ارادت اور شب و روز کی توجہہ اور اخلاص قابلِ تعریف ہے۔خدا تعالیٰ اُن کو ہر ایک غم سے خلاصی بخشے اور حسن عِاقبت عطا فرماوے۔آپ نواب صاحب کو یہ بھی اطلاع دے دیں کہ مالیر کوٹلہ سے نواب ابراہیم علی خاں صاحب والیئِ مالیر کوٹلہ کے ایک سررشتہ دار کا خط آیا ہے کہ وہ مبلغ پچاس۵۰ روپیہ بطور امداد بھیجیں گے۔مگر ابھی آئے نہیں۔یہ روپیہ انشاء اللہ پٹیالہ میں عبدالحق صاحب کو بھیجا جاوے گا اور پھر بعد اُس کے اُن کا قرضہ دو سَو روپیہ باقی رہ جاوے گا۔والسلام۔راقم۔خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۲۶؍ مئی ۱۸۸۴ء٭