مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 603 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 603

بادشاہی پر موقوف ہے۔ناچیز بندہ کیا حقیقت رکھتا ہے کہ جو اپنی بشری طاقتوں کے ذریعہ سے اور اپنے اختیار سے خود بخود بلا اجازت بارگاہ میں داخل ہو جائے اور اب بباعث ضعف زیادہ لکھ نہیں سکتا۔آپ نے جو کئی شعروں کے معنی دریافت فرمائے ہیں وہ کسی اور وقت اگر خدا نے چاہا تحریر کروں گا۔اور امرتسر سے واپس آ گیا ہوں اور واپس آ کر میر مردان علی صاحب کا خط ملا۔سو اُن کی نسبت اور آںمخدوم کے لخت جگر کی نسبت دعاء خیر کر کے حوالہ بخدا کرتا ہوں جب طبیعت رو بصحت ہوئی انشاء اللہ تعالیٰ بشرط یاد آںمخدوم کے سوال یعنی اشعار کے معنوں کی بابت لکھا جائے گا۔٭ ۱۱؍ مارچ ۱۸۸۴ء مطابق ۱۲؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۱ھ خمکتوب نمبر۴۷ مخدومی و مکرمی اخویم شاہ صاحب سلمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔اللہ بخش صاحب کے اعتراض کے بارے میں بات کو طول دینا اس عاجز کے نزدیک مناسب نہیں۔جو کچھ ہو رہا ہے خداوند کریم کر رہا ہے اور جو کچھ کر رہا ہے۔بہتر کر رہا ہے۔کیوں دوسروں کو درمیان میں دیکھا جائے۔اس کے تلطّفات و احسانات کیونکر شمار میں آسکتے ہیں کہ اس احقر عباد پر باوجود صدہا طرح کی آلودگیوں کے جو اس عاجز میں دیکھتا ہے اور باوصف ہزاروں نقصانوں کے کہ جو اس عاجز میں دمبدم پاتا ہے۔دم بدم اپنی عنایات زیادہ کرتا جاتا ہے۔پھر جو لوگ حقیقت میں … اور طول مدت سے اس کام میں پڑے ہوئے ہیں اور ذرّیت صلحا اور بیعت یافتہ صالحین ہیں اور صحبت دیدہ اور محنت کشیدہ ہیں اگر وہ بمقتضائے اپنی بشریت کے کسی نوع کے رشک کا مظہر بن جائیں تو معذور ہیں۔آپ اس خاندان سے بہ منشائے الٰہی ہیں۔آپ کے لئے یہی چاہیے کہ دعائے خیر سے یاد کریں۔نواب صاحب کے بارے میں جو آپ نے دریافت فرمایا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ نواب صاحب کے لئے یہ عاجز ایک مدت تک بہت تضرع سے دعا کرتا رہا ہے۔ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ نواب صاحب کی حالت غم سے خوشی کی طرف مبدّل ہوگئی ہے اور آسودہ حال اور شکر گذار ہیں اور نہایت عمدگی اور صفائی سے یہ خواب آئی اور یہ