مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 571
مکتوب نمبر۲۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا آںمخدوم کا مکتوب محبت اسلوب پہنچ کر باعث مسرت ہوا۔خداوندکریم آپ کی تائید میں رہے اور مکروہات زمانہ سے بچاوے۔اس عاجز سے تعلق اور ارتباط کرنا کسی قدر ابتلا کو چاہتا ہے سو اِس ابتلا سے آپ بچ نہیں سکتے۔گربمجنوں صحبتے خواہی بہ بینی زود تر خار ہائے دشت و تنہائی و طعن عالمے عَرَفْتُ رَبِّی بِرَبِّیْ ۱؎ صحیح المضمون ہے۔اس بارے میں بہت سی احادیث آ چکی ہیں۔خداوندکریم نے پہلی سورۃ فاتحہ میں یہ تعلیم دی ہےاس جگہ عبادت سے مراد پرستش اور معرفت دونوں ہیں اور دونوں میں بندہ کا عجز ظاہر کیا گیاہے۔اسی طرح دوسری جگہ بھی حضرت خداوندکریم نے فرمایا ہے۔۲؎ ۳؎ جب تک خدا کی معرفت کا خدا ہی وسیلہ نہ ہو تب تک وہ معرفت شرک کے رگ و ریشہ سے خالی نہیں اور نہ کامل ہے بلکہ بجز تجلیاتِ خاصہ حضرت احدیّت کی معرفت خالصہ کاملہ کا حاصل ہونا ممکن ہی نہیں۔خدا کو شناخت کرنے کے لئے خدا ہی کا نور چاہئے۔پس حقیقت میں وہی عارف اور وہی معروف ہے اور نیز یہ بھی جاننا چاہئے کہ تجلیّت الوہیت یکساں نہیں۔ہر یک شخص کے لئے تجلّی ربی الگ الگ ہے اور جس قدر ربّانی تجلّی ہے اسی قدر معرفت ہے۔کوئی طرف وسیع اور کوئی تنقیص اور کوئی نہایت صافی اور کوئی اُس سے کم ہے۔پس تجلّی بہ حسب حیثیت ظروف ہے۔ایک کی معرفت دوسرے کی نسبت حکم عدم معرفت کا پیدا کر سکتی ہے اور معارف غیر متناہی ہیں۔کوئی کنارہ نہیں۔اُس ناپید اکنار دریا سے ہر یک شخص بقدر اپنے ظرف کے حصہ لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے ۴؎ یعنی خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام) اُتارا سو ہر یک نالی حسب قدر اپنے بہہ نکلی۔جس قدر پیاس ہے اسی قدر پانی ملتا ہے اور ۱؎ تفسیر فیض القدیر جلد۶ ۲؎ النُّور: ۳۶ ۳؎ الانعام: ۱۰۴ ۴؎ الرَّعد: ۱۸