مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 566
قدرمشاہدہ خوارق کا زیادہ ہے۔اُسی قدر قوت یقین زیادہ ہے۔اسی قدر قوبت زیادہ ہے۔۱؎ اُسی قدر علم زیادہ ہے۔خدا تعالیٰ خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو مسجد اقصیٰ اور آسمان کا سیر کرایا تا اُس کو اپنی آیات خاصہ سے مطلع کریں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ جس ولی کو منصب ارشاد اور ہدایت کا عطا نہیں کیا گیا۔اُس کے خوارق اور لوگوں پر ظاہر ہونا ضرور نہیں ہے کیونکہ اُس کو لوگوں سے کچھ واسطہ اور تعلق نہیں ہے لیکن خود اُس پر تو ظاہر ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ حقیقت ولایت تک اس کا قدم پہنچنا اسی سے وابستہ ہے۔مسجد کے بارہ میں جو فقرہ خداوندکریم کی طرف سے الہام ہوا تھا جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ تاریخ مسجد اس میں موجود ہے اور وہ فقرہ الہامیہ یہ ہے مُبَارِکٌ وَّ مُبَارَکٌ وَّکُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُّجْعَلُ فِیْہِ۔۲؎ خداوند تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ اس مسجد مبارک کے بارے میں پانچ مرتبہ الہام ہوا۔منجملہ ان کے ایک نہایت عظیم الشان الہام ہے جس کے ایک فقرہ سے آپ کو پہلے اطلاع دے چکا ہوں مگر بعد اس کے ایک دوسرا فقرہ بھی الہام ہوا۔اور وہ دونوں فقرہ یہ ہیں۔فِیْہِ بَرَکَاتٌ لِّلنَّاسِ۔۳؎ مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا۔۴؎ یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آ گیا۔علماء ظاہر شاید اس پر اعتراض کریں کہ یہ تو بیت اللہ خانہ کعبہ کی شان میں وارد ہے۔مگر وہ لوگ برکات و سیعہ حضرت احدیّت سے بے خبر ہیں اور معذور ہیں اور نیز ایک الہام یعنی مکالمہ حضرت احدیّت اس ذلیل ناچیز عاجز سے واقع ہوا۔بباعث رابطہ اتحاد آپ کو لکھتا ہوں اور چونکہ یہ عاجز اعلان کا اِذن بھی پاتا ہے اس لئے کتاب میں یعنی حصہ چہارم میں درج بھی کیا جائے گا۔خداوندتعالیٰ کی الوہیت کی موجیں ہیں کہ اس ناکارہ بندہ کو کہ جو فی الواقعہ بے ہنر اور تہی دست ہے۔ایسے مکالمات سے یاد کرتا ہے روحی فداہ سبیلہ بالشان من جلیلہ۵؎ اور وہ الہام یہ ہے ۱؎ نقل مطابق اصل ۲؎ تذکرہ صفحہ۸۳۔ایڈیشن چہارم ۳؎ تذکزہ صفحہ۸۶۔ایڈیشن چہارم ۴؎ تذکرہ صفحہ ۴۲۶۔ایڈیشن چہارم ۵؎ الحکم ۲۴؍ جولائی ۱۸۹۹ء