مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 565 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 565

حومہ پر حضرت احدیّت کی یہ رحمت ہے۔کبھی کبھی آخر صدی پر اصلاح اور تجدیدِ دین کیلئے اس شان کے لوگ مبعوث ہوتے ہیں اور دنیا اُن کے وجود سے نفع اُٹھاتی ہے اور دین زندہ ہوتا ہے۔اور یہ بات کہ ظہور خوارق ولایت کے لئے شرط ہے یا نہیں؟ اکثر صوفیوں کا اتفاق اسی پر ہے کہ شرط نہیں۔پر اس عاجز کے نزدیک ولایت تامہ کاملہ کے لئے ظہور خوارق شرط ہے۔ولایت کی حقیقت قرب اور معرفتِ الٰہی ہے۔سو جو شخص صرف منقولی یا معقولی طور پر خدا پر ایمان لاتا ہے اور وہ کشوف عالیہ اور زوالِ حجب اس کو نصیب نہیں ہوا جس سے ایمان اُس کا تقلید سے تحقیق کے ساتھ مُبدّل ہو جاتا۔تو کیونکر کہا جائے کہ اُس کو ولایت تامہ نصیب ہوگئی ہے۔بعض بزرگوں نے جیسے حضرت مجدّد الف ثانی صاحب نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ یقین کے لئے معجزاتِ نبویہ کافی ہیں۔میں کہتا ہوں کہ کافی نہیں کیونکہ وہ معجزات اب اس شخص کے حق میں کہ جو صدہا سال بعد میں پیدا ہوا ہے منقولات کا حکم رکھتے ہیں اور دید اور شنید میں جس قدر فرق ہے۔ظاہر ہے علماء محدّثین سے زیادہ تر اور کون معجزات سے واقف ہوگا۔مگر وہ معجزات کہ جن کی رویت سے ہزار ہا صحابہ یقین کامل تک پہنچ گئے تھے۔اب ان کے ذریعہ سے علماء ظاہر کو اس قدر اثر بھی نصیب نہیں ہوا کہ اور نہیں تو اُن معجزات کی ہیبت سے اخراج نفسانیت ہی ہو۔مگر یہ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ سماوی نشانوں کو ازدیادِ ایمان میں دخل عظیم ہے اور خود ولایت تامہ کی حقیقت جب کہ قرب تام ہے تو پھر ظاہر ہے کہ قرب اور مشاہدہ عجائبات لازم و ملزوم ہیں۔جو شخص ہمارے مکان پر آتا ہے اُسے ضرور ہے کہ مکان کی وضع اور اس کی کیفیت کمیّت سے اطلاع پیدا کرے۔لیکن اگر بعد از وصول بھی ایسا ہے جو قبل از وصول تھا تو گویا اُس نے مکان کو دیکھا ہی نہیں۔انبیاء کے یقین کو بھی خدا نے نشانوں سے ہی بڑھایا ہے اور قرآن شریف میں۱؎ حضرت ابراہیم کا سوال بھی موجود ہے۔پھر کیونکر کہا جائے کہ ولایت بغیر خوارق کے حاصل ہو سکتی ہے۔بِلاشُبہ جس ۱؎ البقرۃ: ۲۶۱