مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 37

باستثناء بابو رلارام صاحب کے کہ اگر وہ اس شوریٰ تنقید جواب میں داخل ہوئے تو اُن کو اپنی رائے اپنے پرچہ میں طبع کرنا اختیار ہوگا اور جب کہ یہ سب آرائے بقید شرائط متذکرہ بالا کے طبع ہو جائیں گی تو اُس وقت کثرت رائے پر فیصلہ ہوگا اور اگر ایک نمبر بھی زیادہ ہو تو باوا صاحب کوڈگری ملے گی ورنہ آں حضرت مغلوب رہیں گے۔اشتہار مبلغ پانسو روپیہ میں راقم، اُس سوال کا جو آریہ سماج کی نسبت پرچہ ۹؍ فروری اور بعد اُس کے سفیر ہند میں بدفعات درج ہو چکا ہے، اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کر کے لکھ دیتا ہوں کہ اگر باوا نرائن سنگھ صاحب یا کوئی اور صاحب منجملہ آریہ سماج کے جو اُن سے متفق الرائے ہوں ہماری اُن وجوہات کا جواب جو سوال مذکورہ میں درج ہے اور نیز اُن دلائل کی تردید جو تبصرہ مشمولہ اشتہار ہذا میں مبیں ہے پورا پورا ادا کر کے بدلائل حقہ یقینیہ یہ ثابت کر دے کہ ارواح بے اَنت ہیں اور پرمیشور کو اُن کی تعداد معلوم نہیں تو میں پانسو نقد اُس کو بطور جرمانہ کے دوں گا اور درصورت نہ ادا ہونے روپیہ کے مجیب مثبت کو اختیار ہوگا کہ امداد عدالت سے وصول کرے۔تنقید جواب کی اُس طرح عمل میں آوے گی جیسے تنقیح شرائط میں اوپر لکھا گیا ہے اور نیز جواب باوا صاحب کا بعد طبع اور شائع ہونے تبصرہ ہماری کے مطبوع ہوگا۔المشتہر مرزا غلام احمد رئیس قادیان