مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 36

میں مولوی سید احمد خان صاحب کا نام بھی جو ہم سے اخوت اسلام رکھتے ہیں درج کر دیا۔اس لئے میں بھی اپنے منصفان مقبولہ میں ایک فاضل آریہ صاحب کو جن کی فضیلت میں باوا صاحب کو بھی کلام نہیں باعتماد طبیعت صالحانہ اور رائے منصفانہ اُن کی کے داخل کرتا ہوں جن کے نام نامی یہ ہیں سوامی پنڈت دیانند سرستی، حکیم محمد شریف صاحب امرتسری، مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب لاہوری لیکن اتنی عرض اور ہے کہ علاوہ ان صاحبوں کے کہ فریقین کے ہم مذہب ہیں دو صاحب مسیحی مذہب بھی ممبر تنقید جواب کے قرار پانے چاہئیں۔سو میری دانست میں پادری رجب علی صاحب اور بابو رلارام صاحب جو علما وہ فضیلت علمی اور طبیعت منصفانہ کے اس بحث جاری شدہ سے بخوبی واقف ہیں، بشرطیکہ صاحبین موصوفین براہ مہربانی اس شوریٰ میں داخل ہونا منظور کر لیں۔اور آپ کو بھی اس میں کچھ کلام نہ ہو بہتر اور اَنْسب ہیں۔ورنہ بالآخر اس طرح تجویز ہوگی کہ ایک صاحب مسیحی مذہب کو آپ قبول کر کے اطلاع دے دیں اور ایک کے اسم مبارک سے میں مطلع کروں گا۔اور تصفیہ اس طرح پر ہوگا کہ بعد طبع ہونے جواب آپ کے اُن سب صاحبوں کو جو حسب مرضی فریقین ثالث قرار پائے ہیں، بذریعہ خانگی خطوط کے اطلاع دی جائے گی لیکن ہر ایک فریق ہم دونوں میں سے ذمہ دار ہوگا کہ اپنے منصفین مجوزہ کو آپ اطلاع دے۔تب صاحبان منصفین اوّل ہمارے سوال نمبر۱ کو دیکھیں گے اور بعد اُس کے تبصرہ مشمولہ شرائط ہذا کو جس میں آپ کے جواب الجواب کا، جو ۱۸؍ فروری آفتاب پنجاب میں طبع ہوا تھا، ازالہ ہے بغور ملاحظہ فرمائیں گے۔پھر آپ کا جواب بتدبر تمام پڑھ کر جانچیں گے کہ آیا اس جواب سے وجوہات ہمارے ردّ ہوگئے یا نہیں اور یہ بھی دیکھیں گے کہ آپ نے باثبات دونو امر مندرجہ اشتہار کے کیا کیا وجوہات پیش کئے ہیں لیکن یہ امر کسی منصف کے اختیار میں نہ ہوگا کہ صرف اس قدر رائے ظاہر کرے کہ ہماری دانست میں یہ ہے یا وہ ہے بلکہ اگر کوئی ایسی رائے ظاہر کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ گویا اُس نے کوئی رائے ظاہر نہیں کیا۔غرض کوئی رائے شہادت میں نہیں لیا جائے گا جب تک اس صورت سے تحریر نہ ہو کہ اصل وجوہات متخاصمین کو پورا پورا بیان کر کے بتقریر مدلّل ظاہر کرے کہ کس طور سے یہ وجوہات ٹوٹ گئیں یا بحال رہیں اور علاوہ اس کے یہ سب منصفانہ آراء سے سفیر ہند میں درج ہونگے۔نہ کسی اور پرچہ میں۔بلکہ صاحبان منصفین اپنی اپنی تحریر کو براہ راست مطبع ممدوح الذکر میں ارسال فرمائیں گے با