مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 538 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 538

کے مراتبہ عالیہ کے موافق سمجھنا چاہئے۔اور اُن کے امورِ کادوسروں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔وہ درحقیقت اس عالم سے باہر ہوتے ہیں۔گو بصورت اسی عالم کے اندر ہی ہوں۔اور بہرام خان صاحب کی کوشش سے طبیعت بہت خوش ہوئی۔خدا اُن کو اجر بخشے۔کتاب سات سو جلد چھپی ہے لیکن اب میں نے تجویز کی ہے کہ ہزار جلد چھپے تو بہتر۔منشی فضل رسول صاحب کا خط میں نے پڑھا۔منشی صاحب کے پاس جس نے یہ بیان کیا ہے کہ وید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے اُس نے بہت ہی دھوکہ کھایا۔وید میں تو خدا کا بھی اُس کی شان کے لائق ذکر نہیںچہ جائیکہ اُس کے رسول کا بھی ذکر ہو۔جن باتوں سے وید بھرا ہوا ہے وہ آتش پرستی اور شمس پرستی اور اِندر پرستی وغیرہ ہے۔اور مدار المہام تمام دنیا کا انہیں چیزوں کو وید نے سمجھا ہے اور انہیں کی پرستش کیلئے وید نے ترغیب کی ہے اور کئی دفعہ اس عاجز کو نہایت صراحت سے الہام ہوا ہے کہ وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۱؎ اور وید کاایک حصہ ترجمہ شدہ اس عاجز کے پاس موجود ہے اور پنڈت دیانند کے وید بھاش میں سے بھی سنتا رہا ہوں اور جو کچھ اُردو میں وید بھاش لکھا گیا وہ بھی دیکھتا رہا ہوں۔اس صورت میں وید کوئی ایسی عجیب چیز نہیں ہے جس کی حقیقت پوشیدہ ہو۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اَظْہَرٌ مِّنَ الشَّمْسِہے۔ویدوں کے پُرظلمت بیان کی محتاج نہیں۔اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ویدوں میں کسی قسم کی پیشگوئی نہیں اور نہ کسی معجزہ کا ذکر ہے۔جہاں تک دریافت ہوتا ہے وید کی یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ کسی پُرانے زمانہ کے شاعروں کے شعر ہیں کہ جو مخلوق چیزوں کی تعریف میں بنائے ہوئے ہیں۔ابتدا میں جب یہ کتاب چھپنی شروع ہوئی تو اسلامی ریاستوں میں توجہ اور مدد کے لئے لکھا گیا تھا بلکہ کتابیں بھی ساتھ بھیجی گئی تھیں۔سو اس میں سے صرف نواب ابراہیم علی خان صاحب نواب مالیرکوٹلہ اور محمود خان صاحب رئیس چھتاری اور مدارالمہام جونا گڑھ نے کچھ مدد کی تھی۔دوسروں نے اوّل توجہ ہی نہیں کی اور اگر کسی نے کچھ وعدہ بھی کیا تو اُس کا ایفا نہیں کیا۔بلکہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھوپال سے ایک نہایت مخالفانہ خط لکھا۔آپ ان ریاستوں سے نااُمید رہیں اور اس کام کی امداد کے لئے مولیٰ کریم کو کافی سمجھیں۔ ۲؎ ۱؎ تذکرہ صفحہ ۴۹۔ایڈیشن چہارم ۲؎ الزُّمر: ۳۷