مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 537 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 537

مکتوب نمبر۲۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ رَبُّہٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا آن مخدوم کے دو عنایت نامہ پے در پے پہنچے۔باعث مسرت اور خوشی کاہوا۔آپ کی کوششوں سے بار بار دل خوش ہوتا ہے او ربار بار دعا آپ کے لئے اور آپ کے معاونوں کے لئے دل سے نکلتی ہے۔خداوند کریم نہایت مہربان ہے۔اُس کے تفضّلات سے بہت سی امیدیں ہیں۔اس کی راہ میں کوئی محنت ضائع نہیں ہوتی۔آپ نے لکھا تھا کہ ایک عالم نے فیروز پور میں اعتراض کیا ہے کہ رسول مقبول نے سیر ہو کر بھی کھایا ہے۔لیکن اس بزرگ عالم نے اس عاجز کی تقریر کامنشاء نہیں سمجھا ہے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سیر ہونے کے معنی سمجھے ہیں۔طیبّین اور طاہرین کا سیر ہو کر کھانا اُس قسم کا سیر ہونا نہیں ہے جو اُن لوگوں کا ہوا کرتا ہے جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے کھاتے ہیں جیسے چار پائے کھایا کرتے ہیں اور آگ اُن کا ٹھکانا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت سیر ہو کر کھانا اور ہی نور ہے اور اگر اُس سیری کو اُن لوگوں کی طرف نسبت دی جاوے جن کا اصل مقصد احتظاذ اور تمتع ہے اور جن کی نگاہیں نفسانی شہوات کے استفا تک محدود ہیں تو اُس سیری کو ہم ہرگز سیری نہیں کہہ سکتے۔سیری کی تعریف میں پاکوں اور مقدسوں کی اصطلاح اور ناپاکوں اور شکم پرستوں کی اصطلاح الگ الگ ہے اور پاک لوگ اُسی قدر غذا کھانے کا نام سیری رکھ لیتے ہیں کہ جب فی الجملہ وقت جوع دور ہو جائے اور حرکات و سکنات پر قوت حاصل ہو جائے۔غرض مومن کی سیری یہی ہے کہ اس قدر غذا کھائے جو اُس کی پشت کو قائم رکھے اور حقوق واجبہ ادا کر سکے۔پس جو سیّد المومنین ہے۔اُس کی سیری کا قیاس عام لوگوں کی سیری پر قیاس مع الفارق ہے۔اسی طرح بہت لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عظیم کو نہیں سمجھا اور الفاظ کے مورد استعمال کو ملحوظ نہیں رکھا اور اپنے تئیں غلطی میں ڈال لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت یہ فرمانا کہ میں سیر ہو گیا ہوں ہرگز اُس قول کا مرادِف نہیں کہ جو دنیا داروں کے منہ سے نکلتا ہے جنہوں نے اصل مقصد اپنی زندگی کا کھانا ہی سمجھا ہوا ہوتا ہے۔غرض پاکوں کا کام اور کلام پاکوں