مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 523 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 523

تو درود شریف، جیسا کہ میں نے زبانی بھی سمجھایا تھا، اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوندکریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے اور اُس کو تمام عالم کے لئے سرچشمہ برکتوں کابناوے اور اُس کی بزرگی اور اس کی شان و شوکت اِس عالَم اور اُس عالَم میں ظاہر کرے۔یہ دعا حضورتام سے ہونی چاہئے جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے بلکہ اُس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے مجھ کو یہ ثواب ہوگا یا یہ درجہ ملے گا بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کاملہ الٰہیہ حضرت رسولِ مقبول پر نازل ہوں اور اُس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت چاہئے۔اور دن رات دوام توجہ چاہئے یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل میں اس سے زیادہ نہ ہو۔پس جب اس طور پر یہ درود شریف پڑھا گیا تو وہ رسم اور عادت سے باہر ہے اور بلاشبہ اس کے عجیب انوار صادر ہوں گے اور حضور تام کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ اکثر اوقات گریہ و بکا ساتھ شامل ہو۔اور یہاں تک یہ توجہ رگ و ریشہ میںتاثیر کرے کہ خواب اور بیداری یکساں ہو جاوے۔علی ھٰذا القیاس۔نماز جس کیلئے خداوندکریم نے صدہا مرتبہ قرآن شریف میںتاکید فرمائی ہے اور اپنے تقرب کیلئے فرمایا ہے۔۔۱؎ یہ بیجا رسم اور عادت کے پیرایہ میں کچھ چیز نہیں ہے۔اس میں بھی ایسی صورت پیدا ہونی چاہئے کہ مُصلّی اپنی صلوٰۃ کی حالت میں ایک سچا دعا کنندہ ہو۔سو نماز میں بالخصوص دعائے  ۲؎ میں دلی آہوں سے، دلی تضرعات سے، دلی خضوع سے، سچے دلی جوش سے حضرت احدیّت کا فیض طلب کرنا چاہئے اور اپنے تئیں ایک مصیبت زدہ اور عاجز اور لاچار سمجھ کر اور حضرت احدیّت کو قادر مطلق اور رحیم کریم یقین کرکے رابطۂ محبت اور قرب کیلئے دعا کرنی چاہئے۔اُس جناب میں خشک ہونٹوں کی دعا قابل پذیرائی نہیں۔فیضانِ سماوی کیلئے سخت بیقراری اور جوش و گریہ و زاری شرط ہے۔اور نیز استعداد قریبہ پیدا کرنے کیلئے اپنے دل کو ماسوا اللہ کے شغل اور فکر سے بکلّی خالی اور پاک کر لینا چاہئے۔کسی کا حسد اورنقار دل میں نہ رہے۔بیداری بھی پاک باطنی کے ساتھ ہو اور خواب بھی۔بے مغز باتیں سب فضول ہیں اور جو عمل روح کی روشنی سے نہیں وہ تاریکی اور ظلمت ہے۔خذواالتوحید والتفرید والتمجید وموتوا قبل ان تموتوا۔آج حسب تحریر آپ کی ہر سہ حصہ روانہ کئے گئے۔٭ (۱۵؍ اپریل ۱۸۸۳ء مطابق ۱۷؍ جمادی الثانی ۱۳۰۰؁ھ) ۱؎ البقرۃ: ۴۶ ۲؎ الفاتحہ: ۶ ٭ الحکم ۶،۱۳ ؍ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ۷