مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 508
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ مکتوب نمبر۲ مشفقی مکرمی حضرت میر عباس علی شاہ صاحب زَادَ عِنَایَتُہٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔بعدہذا دوقطعہ ہنڈوی بتیس۳۲ پہنچ گئے۔جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْراً۔امور خمسہ کی بابت جو آپ نے حسب الارشاد منشی احمد جان صاحب تاکید لکھی ہے۔مناسب ہے کہ آپ بعد سلام مسنون منشی صاحب مخدوم کی خدمت میںاس عاجز کی طرف سے عرض کر دیں کہ حتی الوسع آپ کے فرمودہ پر تعمیل ہوگی۔اور آپ کو خدا جزائِ خیر بخشے۔یہ بھی گزارش کی جاتی ہے کہ حصہ سوم کتاب براہین احمدیہ میں جو دس وسوسوں کا بیان ہے وہ آریہ سماج والوں کے متعلق نہیں۔آریہ سماج ایک اور فرقہ ہے جو وید کو خدا کا کلام جانتے ہیںاور دوسری کتابوں کو نَعُوْذُبِاللّٰہِ انسانوں کا اختراع سمجھتے ہیں۔اس فرقہ کے ردّ کے لئے کتاب براہین احمدیہ میں دوسرا مقام ہے۔لیکن دس وساوس جو حصہ سوم میں لکھے گئے ہیں۔وہ برہموسماج والوں کا ردّ ہے۔یہ ایک اور فرقہ ہے جو کلکتہ اور ہندوستان کے اکثر مقامات میں پھیلا ہوا ہے اور لاہور میں بھی موجود ہے۔یہ لوگ کتب الہامیہ کا انکار کرتے ہیں اگرچہ ہندو ہیں مگر وید کو نہیں مانتے۔نہ اُس کی تعلیم کو عمدہ سمجھتے ہیں۔یہ لوگ آریہ سماج والوں کی نسبت بہت ذی علم اور دانا ہوتے ہیں۔اور کئی اصول اُن کے اسلام سے ملتے ہیں۔مثلاً یہ تناسخ کے قائل نہیں۔بُت پرستی کو بُرا سمجھتے ہیں۔خدا کو صاحب اولاد اور متو ّلد ہونے سے پاک سمجھتے ہیں۔مگر کتب الہامیہ کے مُنکر ہیں اور الہام صرف ایسی باتوں کا نام رکھتے ہیں جن کو انسان خود اپنی عقل یا فکر کے ذریعہ سے پیدا کرے۔یا معمولی طور پر اُس کے دل میں گزر جائیں اور انبیاء کی متابعت کو ضروری نہیں سمجھتے اور صرف عقل کو کافی قرار دیتے ہیں۔الہامِ ربّانی سے انکار کرنا اُن کا ایک مشہور اصول ہے جیسا رسالہ برادر ہند میں جو پنڈت شیونارائن کی طرف سے شائع ہوتا تھا۔چھپتا رہا ہے چونکہ ہندوستان میں اُن کی جماعت بہت پھیل گئی ہے اور اُن کے وساوس کا ضرر نو تعلیم یافتہ لوگوں کو بہت پہنچتا ہے اور پہنچ رہا