مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 507 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 507

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ ط نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ مکتوب نمبر۱ مکرمی مخدومی میر عباس علی صاحب زَادَ عِنَایَتُہٗ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچ کر باعث خوشی ہوا۔جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْراً۔آپ اللہ اور رسول کی محبت میں جس قدر کوشش کریں وہ جوش خود آپ کی ذات میں پایا جاتا ہے۔حاجت تاکید نہیں۔چونکہ یہ کام خالصاً خدا کیلئے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لئے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی میں یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایسا خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید فروخت پر نظر ہو۔بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں اُنہیں کی خریداری مبارک اور بہتر ہے کیونکہ درحقیقت یہ کوئی خرید فروخت کا کام نہیں بلکہ سرمایہ جمع کرنے کیلئے یہ ایک تجویز ہے۔مگر جن کا اصول محض خریداری ہے۔اُن سے تکلیف پہنچتی ہے اور اپنے روپیہ کو یاد دلا کر تقاضا کرتے رہتے ہیں۔سو ایسے صاحب اگر خریداری کے سلسلہ میں داخل نہ ہوں اور نہ وہ روپیہ بھیجیں اور نہ کچھ مدد کریں تو یہ اُن کے لئے اس حالت سے بہتر ہے کہ کسی وقت بدگمانی اور شتابکاری سے پیش آویں۔اس کام میں جیسے جیسے عرصہ میں خداوندکریم سرمایۂ کافی کسی حصہ کے چھپنے کیلئے حسب حکمت کاملہ خود میسر کرتا ہے اُسی عرصہ میں یہ کتاب چھپتی ہے۔پس کسی وقت کچھ دیر ہوتی ہے تو بعض صاحب جن کی خریداری پر نظر ہے۔طرح طرح کی باتیں لکھتے ہیں جن سے رنج پہنچتا ہے۔غرض آن مخدوم اسی سعی اور کوشش میں خداوند کریم پر توکّل کر کے صادق الارادت لوگوں سے مدد لیں۔اور اگر ایسے نہ ملیں تو آپ کی طرف سے دعا ہی مدد ہے۔ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حیثیت اور کیا قدر رکھتے ہیں۔وہ جو قادر مطلق ہے۔وہ جب چاہے گا تو اسباب کاملہ خود بخود میسر کر دے گا۔کونسی بات ہے جو اُس کے آگے آسان نہ ہوئی ہو۔(۲۸؍ اکتوبر ۸۲ء؍ مطابق۱۵؍ ذی الحجہ ۱۲۹۹ ہجری)