مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 491
قرآن شریف اور تمام عرب کی زبان میں ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے ۱؎ یعنی کیا خدا نے تجھ کو یتیم پا کر پھر پناہ نہ دی ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے اوّل آپ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیم کیا اور یتیمی کے تمام مصائب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر واردکئے اورپھر بعد مصائب کے پناہ دی۔پس اَوٰی کے لفظ میں شرط ہے کہ جس کو پناہ دی جائے، وہ اوّل کچھ مصیبتیں اُٹھا چکا ہو۔یہی فقرہ وحی الٰہی کا ہے جس کے معنی مفسد طبع لوگوں نے اپنی قدیم عادت کے موافق یہ بنائے کہ گویا خدا نے یہ فرمایا تھا کہ قادیان میں طاعون سے کوئی نہیں مرے گا۔اب اس جگہ بھی بجز اس کے ہم کیا کہیں کہ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ اور یاد رہے کہ پیسہ اخبار والے کو تو حق سے قدیم بغض ہے اور خلافِ واقعہ لکھنا اور اپنی طرف سے بات بنانا اس کی عادت ہے٭اور میں اس بارے میں مدت ہوئی چند کتابیں شائع کرچکا ہوں اور عام طور پر بتلا چکا ہوں کہ ایسی کوئی مجھے وحی نہیں ہوئی جس کے یہ معنی ہوں کہ قادیان میں طاعون ہرگز نہیں پڑے گی۔اب اگر آپ کا دعویٰ ہو کہ ضرور میں نے ایسی کوئی پیشگوئی شائع کی تھی تو اس کو پیش کرنا چاہئے۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے ایسی کوئی وحی شائع نہیں کی جس کے یہ معنی ہوں کہ قادیان میں طاعون نہیںپڑے گی۔اب اگر کوئی کہے کہ شائع کی تھی تو بجز اس کے کیا جواب دوں کہ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔پھر یہ دوسرا اعتراض کہ مریدوں کے لئے یہ وحی شائع کی تھی کہ ان میں سے کوئی نہیں مرے گا۔یہ بھی سراسر ۱؎ الضُّحٰی: ۷ ٭ پیسہ اخبار کا خلافِ واقعہ لکھنے کا یہ نمونہ کافی ہے کہ قادیان میں بعض اموات جو اَور اور بیماریوں سے ہوئی تھیں۔اس نے طاعون میں داخل کر دیں۔اور ایک شخص دیوانہ کے کاٹنے سے مرا تھا وہ بھی طاعونی موت قرار دی اور اس طرح پر طاعون کی وارداتیں زیادہ دکھلائیں۔ورنہ اِردگرد کے دیہات کی نسبت اس قدر قادیان میں طاعون کم رہی ہے کہ گویا نہیں ہوئی اور قادیان میں قدیم سے آبادی تین ہزار سے زیادہ نہیں بلکہ کم ہے۔یہ کس دروغ گو کے منہ سے نکلا کہ اب صرف تین سَو باقی ہیں۔پیسہ اخبار کی بار بار کی خلاف بیانی اور عوام کو دھوکہ دینے کی نسبت بجز اس کے ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنت اللّٰہ علی الکاذبین۔اس نے یہ بھی خلافِ واقعہ لکھا کہ فلاں فلاں آدمی طاعون سے مر گئے ہیں حالانکہ نہ ان کو طاعون ہوئی اور نہ وہ مرے۔بلکہ اب تک زندہ موجود ہیں۔منہ