مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 476
کتاب عصائے موسیٰ کے نام سے عام مکذبین کے طریق پر شائع کی اور اس میں حضرت اقدس کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ کذّاب ہیں اور میری زندگی میں طاعون سے ہلاک ہوجائیں گے۔اس طرح گویا منشی الٰہی بخش صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امتحان کے لئے خدائی فیصلہ کا نفاذ بھی باقی تھا۔جو حق وباطل میں ہونیوالا تھا۔منشی الٰہی بخش نے اپنے الہامات کی بنا پر علی الاعلان یہ کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام طاعون سے اس کی زندگی میں فوت ہوجائیں گے اور خود موسیٰ ہونے کا بھی دعویٰ کیااور حضرت کو لکھا کہ میں موسیٰ ہوں اور میرے ہاتھ سے آپ کا سلسلہ ہلاک کردیا جاوے گا۔(مفہوم) اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بذریعہ الہام بشارت دی کہ ’’ ایک موسیٰ ہے میں اس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اس کو عزت دوں گا اور جس نے میراگناہ کیا ہے میں اس کو گھسیٹوں گااور اس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔میرے نشان روشن ہوجائیں گے۔میرا دشمن ہلاک ہوگیا(یعنی ہلاک ہوجائے گا) ہن اس دالیکھا خدا نال جاپیا اے‘‘۔۱؎ یہ الہامات قبل از وقت اخبار الحکم اور بدر میں شائع ہوگئے۔یہ مارچ ۱۹۰۷ء کی بات ہے ان الہامات کی اشاعت کے سترھویں دن بعد ۷؍اپریل ۱۹۰۷ء کو بابو الٰہی بخش صاحب (جو حضرت مسیح موعود کا اپنی زندگی میں طاعون سے ہلاک ہونے کااعلان کرتے تھے۔خود طاعون میں مبتلا ہوکر فوت ہوگیا اور اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فیصلہ سے حق اور باطل میں امتیاز کردیااور بتادیا کہ الٰہی بخش اپنے دعاوی میں کاذب اور حضرت مرزا صاحب صادق ہیں وللّٰہ الحمد۔تفصیلی تذکرہ انشاء اللہ العزیز انجام المکذبین میں ہوگا۔وباللّٰہ التوفیق ہونعم المولٰی ونعم الرفیق۔(عرفانی)