مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 470

مکتوب نمبر ۲۴ دوسراخط بنام حافظ محمد یوسف صاحب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ بخدمت شریف مکرمی حافظ محمد یوسف صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔اگرچہ وہ شرائط جومیں نے لکھے تھے وہ سب قوم کے فائدہ کے لئے لکھے تھے اور ان کے لکھنے سے نہ یہ غرض تھی کہ حضرت منشی الٰہی بخش صاحب پر مجھے اعتبار نہیں اور نہ یہ غرض تھی کہ میں نعوذ باللہ ان کے لئے کوئی بد منصوبہ سوچتا ہوں۔محض نیک نیتی سے لکھا گیا تھا۔لیکن چونکہ مجھے آسمانی فیصلہ مطلوب ہے۔یعنی یہ مدعا ہے کہ تالوگ ایسے شخص کو شناخت کر کے جس کا وجود حقیقت میں ان کے لئے مفید ہے، راہ راست پر مستقیم ہوجائیں اور تا لوگ اس شخص کو شناخت کر لیں جو درحقیقت خد اتعالیٰ کی طرف سے امام ہے اور ابھی تک یہ کس کو معلوم ہے کہ وہ کون ہے؟ صرف خدا کومعلوم ہے یا ان کوجن کو خد اتعالیٰ کی طرف سے بصیرت دی گئی ہے۔اس لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔پس اگر جناب منشی الٰہی ۱؎صاحب کے الہامات درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو وہ الہام جو میری نسبت ان کو ہوئے ہیں۔اپنی سچائی کا کوئی کرشمہ ظاہر کریںگے اور اس طرح یہ خلقت جو واجب الرحم ہے۔ُمسرِف کذّاب سے نجات پا جائے گی اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی ایسا امر ہے جو اس بدظنی کے برخلاف ہے تو وہ امرروشن ہو جائے گا۔لہٰذا میں ا س بات سے تو باز آیا کہ منشی صاحب کے منہ سے قسم کااقرار لوں۔گو خدا تعالیٰ نے بھی قسمیں کھائی ہیں اورہمارے سیّد اورمولیٰ آنحضرت ﷺصحابہ کے سامنے بعض اوقات قسمیں کھایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لیکن میں عام لوگوںکو زیادہ توجہ دلانے کے لئے خود منشی الٰہی بخش صاحب کو قسم دیتا ہوں اورمیری طرف ۱؎ لفظ ’’بخش‘‘ چھوٹ گیا معلوم ہوتا ہے۔(ناقل)