مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 455
صاحب علم اور مباحثہ سے دلچسپی رکھنے والے حضرات سہارنپور آجاویں گے۔ورنہ ہم لاہور میں سرکاری انتظام کر سکتے ہیں اورپورے طور سے کر سکتے ہیں۔رہا تقریری اور تحریری مباحثہ وہ اس وقت پر رکھیں تو بہتر ہے جیسے حاضرین جلسہ کی رائے ہو گی۔کثرتِ رائے پر ہم تو کاربند ہوں خواہ تحریری خواہ تقریری جو مناسب سمجھا جاوے گا وہ ہوجاوے گا۔آپ مباحثہ ضرور کریں کہ لوگوں کی نظریں آپ کی طرف لگ رہی ہیں۔یہ تقریر میں نے مولوی صاحب کو لکھ بھیجی۔مولوی صاحب نے کچھ جواب نہیںدیا۔صرف اس قدر لکھا کہ انتظام کا میں ذمہ دار نہیں ہو سکتا ہوں۔پھر میں نے دوتین خط بھیجے جواب ندارد۔مولوی رشید احمد کا مباہلہ سے گریز ۱۸۹۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے منکرین اور مکذّبین علماء کو مباہلہ کی دعوت دی اور ایک مفصل اشتہار انجام آتھم کے ساتھ شائع کیا اور جن علماء اور مشائخ کو آپ نے خطاب کیا تھا ان کو رجسٹری کرا کر بھیجا مگر کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ مقابلہ میں آتا۔اس اشتہار میں آپ نے یہ بھی صراحت کی تھی کہ میرے مقابلہ میں جو لوگ اُٹھیں گے وہ مختلف قسم کے عذابوں میں گرفتار ہوں گے۔ان میں ایک عذاب سانپ کے ڈسنے کا بھی ہے۔مولوی رشید احمد صاحب کا نام بھی ان لوگوں میں درج ہے جن کو دعوتِ مباہلہ دی گئی۔اس کے متعلق صاحبزادہ سراج الحق صاحب کا بیان درج کر دیتا ہوں۔اس کے بعد وہ خط درج کرتا ہوں جو مولوی رشید احمد صاحب کے نام حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا تھا۔(عرفانی الکبیر) رشید احمد گنگوہی کاحال منجملہ ان مدعیانِ مجددیت کے ایک مولوی رشید احمد گنگوہی تھے۔ان کو ان کے مرید مجددِوقت لکھا کرتے تھے اور خاص کر مولوی محمد حسین فقیر… دہلوی کا تو یہی عقیدہ تھا۔مولوی صاحب نے کبھی نہیں کہا کہ مجھ کو مجدد مت لکھو۔میں مجدد نہیں ہوں۔گویا ان کی مرضی تھی کہ میں بھی مجدد ہوں۔مولوی رشیدا حمد گنگوہی نے بھی کفر میں حد کردی۔اشتہار دیا کہ علانیہ سبّ و شتم