مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 454
دی۔مولوی صاحب نے لکھا کہ تقریر صرف زبانی ہو گی۔لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی کسی کو اجازت نہ ہو گی اورجو جس کے جی میں آئے گا حاضرین میں سے رفع اعتراض و شک کیلئے بولے گا۔میں لاہور نہیں جاتا۔مرزا ہی سہارنپور آجاوے اور میں بھی سہارنپور آجاؤں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا بودا پن ہے اور کیسی پست ہمتی ہے کہ اپنی تحریر نہ دی جاوے۔تحریر میں بڑے بڑے فائدے ہیں۔حاضرین و غائبین اور نزد یک دور کے آدمی بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اورفیصلہ کرسکتے ہیں۔زبانی تقریر محدود ہوتی ہے جو حاضرین اورسامعین تک رہ جاتی ہے۔حاضرین و سامعین بھی زبانی تقریر سے پورا فائدہ اور کامل فیصلہ نہیں کرسکتے۔مولوی صاحب کیوں تحریر دینے سے ڈرتے ہیں۔ہم بھی تو اپنی تحریر دیتے ہیں گویا ان کا منشاء یہ ہے کہ بات بیچ بیچ میں خلط بحث ہو کر رہ جاوے اور گڑبڑ پڑ جائے اور سہارنپور میں مباحثہ ہونا مناسب نہیں ہے۔سہارنپور والوں میں فیصلہ کرنے یا حق و باطل کی سمجھ نہیں ہے۔لاہور آج دارالعلوم اور مخزن علم ہے اور ہر ایک ملک اور شہر کے لوگ اورہر مذہب و ملّت کے اشخاص وہاں موجود ہیں۔آپ لاہور چلیں اورمیں بھی لاہور چلا چلتا ہوں اورآپ کا خرچ آمدورفت اورقیام لاہور ایام بحث تک اورمکان کا کرایہ اور خرچ میرے ذمہ ہو گااورسہارنپور اہلِ علم کی بستی نہیں ہے۔سہارنپورمیں سوائے شورو شر فساد کے کچھ نہیں ہے۔یہ مضمون میںنے لکھ کر اور حضرت اقدس علیہ السلام کے دستخط کرا کر گنگوہ بھیج دیا۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس کے جواب میں پھر یہی لکھا کہ میں لاہورنہیں جاتا صرف سہارنپور تک آسکتا ہوں اوربحث تحریری مجھے منظور نہیں۔نہ میں خود لکھوں اور نہ کسی دوسرے شخص کو لکھنے کی اجازت بھی دے سکتا ہوں۔حضرت اقدس نے اس خط کو پڑھ کر فرمایا کہ ان لوگوں میں کیوں قوتِ فیصلہ اور حق وباطل کی تمیز نہیں رہی اور ان کی سمجھ بوجھ جاتی رہی۔یہ حدیث پڑھاتے ہیں اور محدّث کہلاتے ہیں۔مگر فہم وفراست سے ان کو کچھ حصہ نہیں ملا۔صاحبزادہ صاحب ان کو یہ لکھ دو کہ ہم مباحثہ کیلئے سہارنپور ہی آجاویں گے۔آپ سرکاری انتظام جس میں کوئی یورپین افسر ہو۔اور ہندوستانیوں پر پورا اطمینان نہیں ہے۔بعد انتظام سرکاری ہمیں لکھ بھیجیں اور کاغذ سرکاری بھیج دیں۔میں تاریخ مقرر پر آجاؤں گا اورایک اشتہار اس مباحثہ کی اطلاع کے لئے شائع کر دیا جاوے گا تاکہ لاہور وغیرہ مقامات سے