مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 444

مکتوب نمبر ۱۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مجھے آپ کی تشریف آوری سے بہت خوشی ہوئی اور خط آمدہ اخویم مولوی سیدمحمد احسن صاحب سے آپ کے اخلاق اور متانت اور تہذیب کا حال معلوم ہو کر دل پہلے سے ہی مشتاق ہو رہاتھا کہ اس مسئلہ میں آپ سے اِظہاراً لِلحَقّ بحث ہو۔سو الحمد للہ آپ تشریف لے آئے۔آج مجھے بوجہ ضروریات فرصت نہیں۔کل انشاء اللہ القدیر کوئی تاریخ مقرر کر کے اطلاع دوں گا۔لیکن بحث تحریری ہوگی۔تاہر ایک فریق کا بیان محفوظ رہے اور دور دست لوگوں کو بھی رائے نکالنے کا موقعہ مل سکے۔سب سے اوّل مسئلہ حیات و وفات مسیح میں بحث ہو گی۔حیات مسیح علیہ السلام کا آپ کو ثبوت دینا ہوگا۔اس ثبوت کے بعد آپ دوسری بحث کر سکتے ہیں۔آپ کی خدمت میں ایک اشتہار بھی بھیجا جا تا ہے جس سے آپ کو معلوم ہو گا کہ حیات و وفات مسیح میں کن شرائط کی پابندی سے آپ کو بحث کرنا ہو گا۔والسلام۔خاکسار ۲۱؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء عبداللہ الصمد غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۱۷ نمبر ۵۔مکرمی اخویم مولوی صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل دس بجے کے بعد بحث ہو یا اگر ایک ضروری کام سے فرصت ہوئی تو پہلے ہی اطلاع دے دوں گا۔ورنہ انشاء اللہ القدیر دس بجے کے بعد تو ضرور بحث شروع ہو گی۔صرف اس بات کا التزام ضروری ہوگا کہ بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔اس کی ضرورت خاص وجہ سے ہے جو زبانی بیان کر سکتا ہوں۔جلسہ عام نہیں ہوگا۔صرف دس آدمی تک جو معزز خاص ہوں آپ ساتھ لا سکتے ہیں۔مگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبدالمجید ساتھ نہ ہوں اور نہ آپ کو ان بزرگوں کی کچھ ضرورت ہے۔والسلام ۲۲؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء مرزا غلام احمد عفی عنہ