مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 428

کون ہے۔لیکن جہاں تک ہو سکے آپ مباہلہ کے لئے کاغذ استفتاء تیار کرکے مولوی صاحبین موصوفین کی مواہیر ثبت ہونے کے بعد وہ کاغذ میرے پاس بھیج دیں۔اگر اس میں کچھ توقف کریں گے یا میاں عبدالحق چپ کر کے بیٹھ جائیںگے تو گریز پر حمل کیا جائے گا اور واضح رہے اس خط کی چار نقلیں چار اخبار میں اور نیز رسالہ ازالہ اوہام میں چھاپ دی جائیںگی۔والسلام علی من اتبع الہدٰی۔٭ الراقم خاکسار یکم رجب ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۱؍ فروری ۱۸۹۱ء غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور حضرت مرزا صاحب بنام مولوی نورالدین صاحبؓ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل آپ کی خدمت میں مولوی عبدالجبار صاحب اور میاں عبدالحق صاحب کے خط روانہ کر چکا ہوں اور مجھے اس بات سے بہت خوشی ہے جس کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا کہ مولیٰ کریم اور میرا آقا و محسن عز اسمہ جل شانہٗ مجھے فتح و نصرت کی بشارت دیتا ہے اور ان لوگوں کے فیصلہ کیلئے مجھے ایک راہ بتاتا ہے جنہوں نے الہامات کا ادّعا کر کے ا س عاجز کو ضال، ملحد اور جہنمی قرار دیا ہے اور جرأت کر کے اس مضمون کو شائع بھی کر دیا۔اور جو ان باتوں سے اپنے بھائی مسلمان کو آزار پہنچاتا ہے ا وراس کی تذلیل ہوتی ہے اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی اور طریق تقویٰ کی رعایت نہیں رکھی۔اس لئے یہ امر خدا تعالیٰ کی جناب میں کچھ سہل و آسان نہیں بلکہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا تھا۔سو مجھے خدا تعالیٰ کی نصرت کی خوشبو آرہی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ مجھے ایک ایسی راہ کی رہبری کرتا ہے جس سے جھوٹوں کا جھوٹ کھل جائے۔اگر یہ الزام صرف میری ذات تک محدود ہوتا تو دوسرا امر تھا لیکن اس کا بداثر ہزاروں ٭ الفضل ۹؍ جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ۳ تا۵