مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 400

نظر سے یہ خط بھیجا جاتا ہے کہ اگر ان سخت اور نالائق الفاظ کا موجب یہی ہے جو میں نے سمجھا ہے تو آپ مجھ کو قیمت کے لئے اطلاع دیں تاکہ آپ کی قیمت مرسلہ واپس کر کے وہ علاج کر دیا جائے جس سے کف لسانی کی سعادت جوشعار مومنین ہے، آپ کو حاصل ہو۔اگر آپ رسالہ سرمہ چشم آریہ دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ اس عاجز نے پہلے ہی اشتہار دے دیا ہے کہ اگر کوئی توقف طبع براہین پر ناراض ہو اور اپنی قیمت واپس لینا چاہے تووہ اطلاع دے تو ویسے سب خریداروں کی قیمت واپس ہو گی۔آپ پر واضح رہے کہ جولوگ بدظنی کرتے ہیں اور منہ سے گندی باتیں نکالتے ہیں وہ ہمارا کچھ نقصان نہیں کر سکتے۔وہ آپ ہی بدظن ہو کرخسر الدنیا و الآخرۃ کے مصداق ٹھہر جاتے ہیں۔یہ کاروبار سب جناب الٰہی کی طرف سے ہے اور وہی اس کو بخیر وخوبی پورا کر ے گا۔اگر تمام بنی آدم ایسا ہی خیال دل میں پید اکریں جیسا کہ آج کل آپ کا ہے تو تب بھی ایک ذرہ ہم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ہمارا وہ مربی کریم ہے جس نے تاریکی کے زمانہ میں مامور کیا، وہ ہمارے ساتھ ہے اور وہی کافی ہے۔۔٭ (۱۸؍ ربیع الثانی ۱۳۰۲ھ۔۴؍ فروری ۱۸۸۵ء) نوٹ:۔یہ مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس یقین اور بصیرت کا مظہر ہے جو آپ کو اپنی ماموریت اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت پر تھی اور آپ ایک کامل یقین کے ساتھ جانتے تھے کہ آپ کی مخالفت کرنے والے خائب و قاسر ہوںگے اور فتح وظفر کی کلید آپ ہی کے حوالہ کی گئی ہے۔یہ مکتوب آج سے ۶۵ برس پہلے کا ہے۔براہین احمدیہ کے معرضِ التوا میں آنے کی وجہ سے بدظنی پھیل رہی تھی۔لیکن آپ آنے والی کامیابیوں اور ربّانی تائیدات کو دیکھ رہے تھے اس مکتوب سے آپ کے توکل علی اللہ کا بھی پتہ ملتا ہے اور اسی لئے خدا تعالیٰ کی وحی نے آپ کا نام ’’متوکّل‘‘ بھی رکھا۔غرض حضرت اقدس کی سیرت مطہرہ کا یہ مکتوب آئینہ ہے۔٭ الحکم ۷ اپریل ۱۹۳۴ء صفحہ۸