مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 396
مکتوب نمبر ۴ مخدومی مکرمی اخویم سلّمہ اللہ۔بعد سلام مسنون۔آں مخدوم کادوبارہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کو اگرچہ بباعث علالت طبع طاقت تحریر جواب نہیں دے سکا۔لیکن آں مخدوم کی تاکید دوبارہ کی وجہ سے بطور اجمال عرض کیا جاتا ہے۔(ا) یہ عاجز شریعت اور طریقت دونوں میں مجدّد ہے۔(۲) تجدید کے یہ معنی نہیں ہیںکہ کم یا زیادہ کیا جائے۔اس کا نام تو نسخ ہے بلکہ تجدید کے یہ معنی ہیںکہ جو عقائدِ حقّہ میں فتور آگیا ہے اور طرح طرح کے زوائد ان کے ساتھ لگ گئے ہیں یا جو اعمالِ صالحہ کے اداکرنے میں سُستی وقوع میں آگئی ہے یا جو وصول اور سلوک الی اللہ کے طریق اور قواعد محفوظ نہیں رہے ان کو مجدداً تاکیداً بالاصل بیان کیا جائے۔وقال اللہ تعالیٰ۔۱؎ یعنی عادت اللہ اسی طرح پرجاری ہے کہ جب دل مرجاتے ہیں اور محبت الٰہیہ دلوں سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ذوق اور شوق اور حضور اور خضوع نمازوں میں نہیں رہتا اور اکثر لوگ رُو بد نیا ہوجاتے ہیںاور علماء میں نفسانیت اور فقراء میں ُعجب اور پست ہمتی اور انواع واقسام کی بدعات پید ا ہوجاتی ہیں تو ایسے زمانہ میں خد اتعالیٰ صاحب قوتِ قدسیہ کوپیدا کرتا ہے اور وہ حجت اللہ ہوتا ہے اور بہتوںکے دلوںکو خدا تعالیٰ کی طرف کھینچتاہے اور بہتوں پر اتمامِ حجت کرتا ہے۔یہ وسوسہ بالکل نکمّاہے کہ قرآن شریف واحادیث موجود ہیں پھر مجدد کی کیا ضرورت ہے؟ یہ انہی لوگوں کے خیالات ہیں جنہوں نے کبھی غمخواری سے اپنے ایمان کی طرف نظر نہیں کی۔اپنی حالت اسلامیہ کو نہیں جانچا ،اپنے یقین کااندازہ معلوم نہیں کیا بلکہ اتفاقاً مسلمانوں کے گھر پید ا ہوگئے اور پھر رسم اور عادت کے طور پر کہتے رہے۔حقیقی یقین اور ایمان بجز صحبت صادقین میسر نہیںآتا۔قرآن شریف تو اس وقت بھی ہو گا جب قیامت آئے گی مگر وہ صدیق لوگ نہیں ہوںگے کہ جو قرآن شریف کو سمجھتے تھے اور اپنی قوتِ قدسی سے مستعدین پر اس کااثر ڈالتے تھے۲؎ ۱؎ الحدید: ۱۸ ۲؎ الواقعۃ: ۸۰