مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 302

کہ وہ ایک قسم کی ڈکٹیڑی چاہتے تھے فی الحقیقت وہ شکوک و شبہات میں مبتلا نہ تھا۔وہ براہین احمدیہ کی طبع و اشاعت کے متعلق اپنے اختیارات حاکمانہ رکھنا چاہتے تھے اور براہین کی تالیف و اشاعت کُلّیۃً حضرت ربّ کریم کے منشاء کے تحت تھی۔حضرت اقدس کی اپنی ذات کو تدبیر اور انتظام میں کوئی دخل نہ تھا گو عملاً اور ظاہراً آپ کر رہے تھے مولوی محمد حسین صاحب نے نخوت و تکبرکے نشہ سے بے خود ہو کر اعتراض شروع کیا کہ کتاب کی اشاعت میں توقف کیوں ہے جو رقم آئی ہے اس کاحساب کیا ہے حضرت اقدس نے کمال رفق و ملائمت سے سمجھانا چاہا۔مگر خوے بدرا بہانہ بسیار آخر وہ بیج عداوت اور مخالفت کا جو بویا گیا تھا۔اس کاخار دار درخت مسیح موعود کے دعویٰ کے بعد اس نے کہا اوراسی میں جو شخص خود الجھ کر ختم ہو گیا اور آج …اور جس کی مخالفت میں اس نے بڑے بڑے دعو ے کئے تھے اور اس کے سلسلہ کا نام و نشان مٹا دینے کا متمنّی تھا۔وہ سلسلہ آج اکنافِ عالَم میں پھیل چکا ہے اور اس کلمہ طیّبہ کے درخت کی شاخیں آسمان تک جا چکی ہیں اور اس کے تازہ بتازہ ثمرات سے دنیا حیاتِ نَو پارہی ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔(عرفانی کبیر)