مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 301
مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کے نام (تعارفی نوٹ) مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کا نام سلسلہ کی تاریخ اعدا میں نمایاں ہے۔یہ صاحب بٹالہ ضلع گورداسپور کے باشندے تھے دراصل وہ ہندو خاندان پوری سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے اجداد میں ایک شخص مسلمان ہو گیا مولوی محمد حسین اپنے علم وفضل کے لحاظ سے اپنے معاصرین میں ممتاز تھے اور شیخ الکل مولوی نذیر حسین صاحب محدث دہلوی کے مایہ ناز شاگردوں میں فرد تھے۔پنجاب میں فرقہ اہلحدیث کے اپنے زمانہ اوّل میں سردار تھے اور رسالہ اشاعتہ السنہ کے مؤَسّس و ایڈیٹر تھے ان کے والد شیخ رحیم بخش صاحب کو حضرت اقدس کے خاندان سے تعلقات نیاز مندی حاصل تھے اور اس خاندان کی ریاست و وجاہت سے مستفید ہوتے رہتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب نے براہین احمدیہ پر نہایت شاندار ریویو لکھا اور حضرت اقدس سے ان کو اس قدر ارادت تھی کہ اپنے ہاتھ سے وضو کراتا اور آپ کی جوتیاں سامنے رکھنا فخر سمجھتے تھے۔مگر آپ کے دعویٰ مسیح موعود پر مولوی صاحب نے َعَلَمِمخالفت بلند کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ میں نے ہی اسے اونچا کیااور میں ہی گراؤں گا۔اُدھر خدا کی وحی نے بشارت دی کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِہَانَتَکَ۱؎۔آخر مولوی محمد حسین صاحب کا جو انجام ہوا۔وہ تاریخ سلسلہ کا ایک خاص باب ہے۔حضرت اقدس کی مخالفت میں کیا کیا پاپڑ بیلے مگر ہر مرحلہ پر شکست کھائی۔کفر کا فتویٰ تیار کروایا، جھوٹے مقدمات میں گواہیاں دیں۔خود ایک مقدمہ چلایا لیکن ہوا وہی جو خد اتعالیٰ نے پہلے سے بتا دیا تھا۔عرفانی کبیر ۱۸۹۱ء سے اس کے حالات سے بے تکلّف واقف ہے اور اس نے اس کے عروج اور زوال کے زمانوں میں بچشمِ خود دیکھا ہے۔میں نے مولوی صاحب کے نام کے کچھ خطوط مکتوب کی جلد چہارم میں شائع کئے تھے یہ خط میں اس وقت شائع نہ کر سکا۔اس مکتوب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب شروع میں ہی مبتلائے مرض ہو چکے تھے اور ان کو شکوک و شبہات پید ا ہونے لگے امر واقعہ یہ ہے ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۱۵۸